حدیث نمبر: 4671
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة من أصل كتابه، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا أبو غسان، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، حدثنا الأعمش، عن إسماعيل بن رجاء، عن أبيه، عن أبي سعيد. قال ابن أبي غَرَزة: وحدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا فِطْر بن خَليفة، عن إسماعيل بن رجاء، عن أبيه، عن أبي سعيد، قال: كنا مع رسول الله ﷺ، فانقطعتْ نعلُه، فتخلّف عليٌّ يُصلِحها، فمشى قليلًا ثم قال: "إنَّ منكم مَن يُقاتِل على تأويلِ القرآن كما قاتَلتُ على تَنزيلِه"، فاستشرفَ لها القومُ، وفيهم أبو بكر وعمر، قال أبو بكر: أنا هو؟ قال: "لا" قال عمر: أنا هو؟ قال: "لا، ولكن خاصِفُ النعْلِ - يعني عليًّا - " فأتيناهُ فبشّرناه، فلم يَرفَع به رأسَه، كأنه قد كان سمعَه من رسولِ الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4621 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے کہ آپ ﷺ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسے درست کرنے کے لیے پیچھے رہ گئے۔ آپ ﷺ تھوڑی دور چلے پھر رک کر فرمایا: ”تم میں سے ایک ایسا شخص ہے جو قرآن کی تاویل (صحیح مفہوم کی حفاظت) پر اسی طرح قتال کرے گا جس طرح میں نے اس کی تنزیل (وحی کے ابلاغ) پر قتال کیا ہے۔“ اس پر صحابہ نے اشتیاق سے سر اٹھا کر دیکھا جن میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، سیدنا ابوبکر نے پوچھا: کیا وہ میں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں،“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا وہ میں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ وہ شخص وہ ہے جو جوتا گانٹھ رہا ہے (یعنی علی)۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں یہ خوشخبری دی، لیکن انہوں نے (اپنے کام میں مگن رہے اور) سر اٹھا کر بھی نہ دیکھا، گویا انہوں نے یہ بات پہلے ہی رسول اللہ ﷺ سے سن رکھی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4671
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو غسان: هو مالك بن إسماعيل، والأعمش: هو سليمان بن مهران، ورجاء: هو ابن ربيعة الزُّبيري الكوفي.» [ترقيم الرساله 4671] [ترقيم الشركة 4647] [ترقيم العلميه 4621]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو غسان: هو مالك بن إسماعيل، والأعمش: هو سليمان بن مهران، ورجاء: هو ابن ربيعة الزُّبيري الكوفي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابو غسان سے مراد مالک بن اسماعیل، اعمش سے سلیمان بن مہران اور رجاء سے ابن ربیعہ الزبیری ہیں۔
وأخرجه النسائي (8488)، وابن حبان (6937) من طريق جَرير بن عبد الحميد، عن الأعمش، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (8488) اور ابن حبان (6937) نے جریر بن عبد الحمید عن الاعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد / (11258) و (11289) و (11773) من طرق عن فطر بن خليفة به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11258، 11289، 11773) نے فطر بن خلیفہ سے متعدد طرق سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما تقدم برقم (2647).
نوٹ / توضیح: پچھلا نمبر (2647) دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4671 سے ماخوذ ہے۔