کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انگوٹھی کے نقش پر یہ لکھا تھا: اے اللہ! مجھے سعادت مند زندگی دے اور شہادت کی موت عطا فرما
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ الأصبهاني، حَدَّثَنَا سليمان بن داود الشاذَكُوني، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن ابن عبّاس: أنه سُئل عن عثمانَ: ما كان على فَصِّ خاتِمِه؟ قال: كان على فَصِّ خاتِمِه من صِدق نِيَّته: اللهم أحْيِني سعيدًا، وأمِتْني شهيدًا، فوالله لقد عاشَ سعيدًا، ومات شهيدًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4566 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4566 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا گیا کہ ان کی انگوٹھی کے نگینے پر کیا نقش تھا؟ انہوں نے کہا: ان کی نیت کی سچائی کی وجہ سے ان کی انگوٹھی کے نگینے پر یہ عبارت درج تھی: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي سَعِيدًا، وَأَمِتْنِي شَهِيدًا» ”اے اللہ! مجھے سعادت مندی کی زندگی عطا فرما اور مجھے شہادت کی موت نصیب فرما،“ پس اللہ کی قسم! وہ سعادت مندی کے ساتھ جئے اور شہادت کی موت پائے۔
حدثني أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثني أبي، حَدَّثَنَا هارون بن إسحاق الهَمْداني، حَدَّثَنَا عَبْدة بن سليمان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن حُصَين الحارثي، قال: جاء عليُّ بن أبي طالب إلى زيد بن أرقَمَ يعودُه وعندَه قومٌ، فقال عليٌّ: اسكُنوا واسكُتُوا فوالله لا تسألوني عن شيء إلَّا أخبرتُكم، فقال زيدٌ: أنشُدُكَ الله، أنت قتلتَ عثمانَ؟ فأطرَقَ عليٌّ ساعةً، ثم قال: والذي فَلَقَ الحبّةَ وبَرَأ النَّسمة، ما قَتلْتُه، ولا أمرتُ بقتلِه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4567 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4567 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
حصین حارثی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ وہاں کچھ لوگ موجود تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سکون سے بیٹھو اور خاموش رہو، اللہ کی قسم! تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھو گے میں تمہیں (ضرور) بتاؤں گا، تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے عثمان کو قتل کیا ہے؟ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تھوڑی دیر کے لیے سر جھکا لیا، پھر فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا، نہ میں نے انہیں قتل کیا اور نہ ان کے قتل کا حکم دیا۔
قال هارون: وحدثنا أبو أسامة، عن زهير، عن كِنانة (1)، قال: رأيت الحسنَ بن علي أُخرج من دار عثمان جَرِيحًا (2).
حافظ طلحہ بابر
ہارون کہتے ہیں کہ ہمیں ابواسامہ نے زہیر سے، انہوں نے کنانہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر سے زخمی حالت میں باہر نکالا گیا۔