حدیث نمبر: 4615
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ الأصبهاني، حَدَّثَنَا سليمان بن داود الشاذَكُوني، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن ابن عبّاس: أنه سُئل عن عثمانَ: ما كان على فَصِّ خاتِمِه؟ قال: كان على فَصِّ خاتِمِه من صِدق نِيَّته: اللهم أحْيِني سعيدًا، وأمِتْني شهيدًا، فوالله لقد عاشَ سعيدًا، ومات شهيدًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4566 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا گیا کہ ان کی انگوٹھی کے نگینے پر کیا نقش تھا؟ انہوں نے کہا: ان کی نیت کی سچائی کی وجہ سے ان کی انگوٹھی کے نگینے پر یہ عبارت درج تھی: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي سَعِيدًا، وَأَمِتْنِي شَهِيدًا» ”اے اللہ! مجھے سعادت مندی کی زندگی عطا فرما اور مجھے شہادت کی موت نصیب فرما،“ پس اللہ کی قسم! وہ سعادت مندی کے ساتھ جئے اور شہادت کی موت پائے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4615
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود الشاذَكُوني
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود الشاذَكُوني، فهو متروك الحديث، واتهمه بعضهم.» [ترقيم الرساله 4615] [ترقيم الشركة 4592] [ترقيم العلميه 4566]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود الشاذَكُوني، فهو متروك الحديث، واتهمه بعضهم.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند سلیمان بن داود الشاذکونی کی وجہ سے سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے، وہ متروک الحدیث ہے اور بعض نے اس پر الزام لگایا ہے۔
والصحيح أن عثمان ﵁ كان معه كان معه خاتم النَّبِيّ ﷺ وكان منقوشًا عليه "محمد رسول الله" ولبسه قبله أبو بكر ثم عمر، ثم سقط منه في بئر، فاتخذ خاتمًا آخر ونقش فيه أيضًا "محمد رسول الله". أخرجه أبو داود (4220)، والنسائي (9478) من طريق المغيرة بن زياد الموصلي، عن نافع، عن ابن عمر وإسناده حسن، وأصله في "الصحيحين" لكن دون ذكر اتخاذ عثمان خاتمًا آخر، من غير طريق المغيرة بن زياد.
اہم نکتہ: صحیح بات یہ ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس نبی ﷺ کی انگوٹھی تھی جس پر "محمد رسول اللہ" نقش تھا، اسے ان سے پہلے ابو بکر اور عمر نے پہنا، پھر وہ ان سے کنویں میں گر گئی، تو انہوں نے دوسری انگوٹھی بنوائی اور اس پر بھی "محمد رسول اللہ" نقش کروایا۔
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (4220) اور نسائی (9478) نے مغیرہ بن زیاد الموصلی کے طریق سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر سے روایت کیا ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ اس کی اصل "صحیحین" میں موجود ہے لیکن دوسری انگوٹھی بنانے کے ذکر کے بغیر، اور وہ مغیرہ بن زیاد کے علاوہ طریق سے ہے۔
وأخرج ابن عساكر 39/ 209 بسند لا بأس به، عن عمرو بن عثمان بن عفان، قال: كان نقش خاتم عثمان: آمنت بالذي خلق فسوَّى. وقد جزم ابن رجب في "أحكام الخواتم" ص 100 بأنَّ هذا كان نقش خاتم عثمان الجديد الذي اتخذه بعد أن سقط منه الخاتم النبوي في البئر.
حوالہ / مصدر: ابن عساکر (39/ 209) نے ایسی سند کے ساتھ جس میں کوئی حرج نہیں، عمرو بن عثمان بن عفان سے روایت کیا ہے کہ عثمان کی انگوٹھی کا نقش تھا: "آمنت بالذی خلق فسوی"۔ ابن رجب نے "احکام الخواتم" (صفحہ 100) میں یقین ظاہر کیا ہے کہ یہ نقش اس نئی انگوٹھی کا تھا جو عثمان نے نبوی انگوٹھی گرنے کے بعد بنوائی تھی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4615 سے ماخوذ ہے۔