کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نوّے یا اٹھاسی برس کی عمر میں شہید ہوئے
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد، حَدَّثَنَا أحمد بن حنبل، حَدَّثَنَا حسن بن موسى الأشْيَب، حَدَّثَنَا أبو هِلال، عن قَتَادة: أنَّ عثمان بن عفّان قُتل وهو ابن تسعين أو ثمان وثَمانين (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قتادہ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب شہید کیے گئے تو ان کی عمر نوے (90) سال یا اٹھاسی (88) سال تھی۔
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، قال: قُتل عثمان بن عفّان يومَ الجمعة لاثنتي عشرةَ بقيتْ من ذي الحِجّة سنة خمس وثلاثين، وكانت خلافته ثنتي عشرة سنة (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو نعیم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جمعہ کے روز، ذوالحجہ سنہ پینتیس (35) ہجری کے بارہ دن باقی رہتے ہوئے شہید کیے گئے، اور آپ کی مدتِ خلافت بارہ سال تھی۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر، حَدَّثَنَا ابن وهب، أخبرني ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن أبي عبد الله مولى شدّاد بن الهاد، قال: رأيتُ عثمان بن عفّان على المِنبَر يومَ الجمعة وعليه إزارٌ عَدَنيّ غَليظ، قيمتُه أربعةُ دراهمَ أو خمسةٌ، وريطَةٌ كوفيةٌ مُمشَّقةٌ، ضَرْبَ اللحمِ، طويل اللحيةِ، حَسَنَ الوجهِ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4532 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4532 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
شداد بن ہاد کے مولیٰ ابو عبد اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے جمعہ کے دن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا، آپ نے عدن کی موٹی تہبند پہنی ہوئی تھی جس کی قیمت چار یا پانچ درہم تھی، اور آپ پر کوفہ کی بنی ہوئی «مُمَشَّقَةٌ» ”گیروے رنگ کی“ چادر تھی، آپ کا جسم پر گوشت (مضبوط) تھا، داڑھی طویل تھی اور چہرہ نہایت خوبصورت تھا۔
حَدَّثَنَا أبو علي الحافظ، حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن محمد بن سليمان، حَدَّثَنَا أبو عُبيد الله أحمد بن عبد الرحمن بن وهب حدثني عَمِّي، حَدَّثَنَا يحيى بن أيوب، حَدَّثَنَا هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشة قالت: أولُ حجرٍ حَمَلَه النَّبِيُّ ﷺ لبناء المسجد، ثم حمَلَ أبو بكر، ثم حمل عمرُ حجرًا آخر، ثم حمَلَ عثمانُ حجرًا آخر، فقلتُ: يا رسول الله، ألا تَرى إلى هؤلاء كيف يُسعِدونك؟ فقال: "يا عائشةُ، هؤلاءِ الخُلَفاءُ من بَعْدي" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما اشتَهَرَ بإسناد واهٍ روايةَ محمد بن الفضل بن عطيّة، فلذلك هُجِرَ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4533 -: أحمد بن عبد الرحمن بن وهب منكر الحديث
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما اشتَهَرَ بإسناد واهٍ روايةَ محمد بن الفضل بن عطيّة، فلذلك هُجِرَ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4533 -: أحمد بن عبد الرحمن بن وهب منكر الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مسجد کی تعمیر کے لیے پہلا پتھر نبی کریم ﷺ نے خود اٹھایا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک اور پتھر اٹھایا اور پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک اور پتھر اٹھایا، تو میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ ان لوگوں کو نہیں دیکھتے کہ یہ آپ کی کیسی مدد کر رہے ہیں؟“ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! یہ میرے بعد میرے خلفاء ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ روایت محمد بن فضل بن عطیہ کی ایک کمزور (واہی) سند کے ساتھ مشہور ہوئی تھی، اسی وجہ سے (اہلِ علم کے ہاں) اسے ترک کر دیا گیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ روایت محمد بن فضل بن عطیہ کی ایک کمزور (واہی) سند کے ساتھ مشہور ہوئی تھی، اسی وجہ سے (اہلِ علم کے ہاں) اسے ترک کر دیا گیا تھا۔