المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
اسْتُشْهِدَ عُثْمَانُ وَهُوَ ابْنُ تِسْعِينَ أَوْ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ سَنَةً . باب: سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نوّے یا اٹھاسی برس کی عمر میں شہید ہوئے
حدیث نمبر: 4582
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر، حَدَّثَنَا ابن وهب، أخبرني ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن أبي عبد الله مولى شدّاد بن الهاد، قال: رأيتُ عثمان بن عفّان على المِنبَر يومَ الجمعة وعليه إزارٌ عَدَنيّ غَليظ، قيمتُه أربعةُ دراهمَ أو خمسةٌ، وريطَةٌ كوفيةٌ مُمشَّقةٌ، ضَرْبَ اللحمِ، طويل اللحيةِ، حَسَنَ الوجهِ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4532 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
شداد بن ہاد کے مولیٰ ابو عبد اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے جمعہ کے دن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا، آپ نے عدن کی موٹی تہبند پہنی ہوئی تھی جس کی قیمت چار یا پانچ درہم تھی، اور آپ پر کوفہ کی بنی ہوئی «مُمَشَّقَةٌ» ”گیروے رنگ کی“ چادر تھی، آپ کا جسم پر گوشت (مضبوط) تھا، داڑھی طویل تھی اور چہرہ نہایت خوبصورت تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن كما قال المنذري في "الترغيب والترهيب" 3/ 82. ابن لُهيعة - واسمه عبد الله - سماع ابن وهب - وهو عبد الله - منه صحيح عند أهل العلم. أبو الأسود: هو محمد بن عبد الرحمن بن نوفل المعروف بيتيم عروة.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے جیسا کہ منذری نے "الترغیب والترہیب" (3/ 82) میں کہا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن لہیعہ (عبد اللہ) سے ابن وہب (عبد اللہ) کا سماع اہل علم کے نزدیک صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو الاسود سے مراد محمد بن عبد الرحمن بن نوفل ہیں جو "یتیم عروہ" کے نام سے معروف ہیں۔
وأخرجه عبد الله بن المبارك في "الزهد" (755)، والطبراني في "الكبير" (92)، وأبو نُعيم في "الحلية" 1/ 60، وفي "معرفة الصحابة" (223) و (224)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (5778)، وابن عساكر 39/ 16 من طرق عن عبد الله بن لهيعة، به.
حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن مبارک نے "الزہد" (رقم: 755) میں، طبرانی نے "الکبیر" (رقم: 92) میں، ابو نعیم نے "الحلیۃ" (1/ 60) اور "معرفۃ الصحابہ" (223، 224) میں، بیہقی نے "شعب الایمان" (رقم: 5778) میں اور ابن عساکر (39/ 16) نے متعدد طرق سے عبد اللہ بن لہیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
والرّبطَة: كل مُلاءة ليست قطعتين، وقد يُسمَّى كل ثوب رقيق رَبطة.
نوٹ / توضیح: "الرَبطۃ": ہر وہ چادر جو دو ٹکڑوں میں نہ ہو، اور کبھی ہر باریک کپڑے کو بھی ربطہ کہہ دیا جاتا ہے۔
والمُمشّقة؛ أي: المصبوغة بالمِشْق، وهو الطين الأحمر.
نوٹ / توضیح: "المُمَشّقَۃ": جسے "مِشق" (گیرو/سرخ مٹی) سے رنگا گیا ہو۔
وضَرْبُ اللحم؛ أي: خفيف اللحم.
نوٹ / توضیح: "ضَرْبُ اللحم" یعنی: ہلکے گوشت والا (دبلا پتلا)۔
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے جیسا کہ منذری نے "الترغیب والترہیب" (3/ 82) میں کہا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن لہیعہ (عبد اللہ) سے ابن وہب (عبد اللہ) کا سماع اہل علم کے نزدیک صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو الاسود سے مراد محمد بن عبد الرحمن بن نوفل ہیں جو "یتیم عروہ" کے نام سے معروف ہیں۔
وأخرجه عبد الله بن المبارك في "الزهد" (755)، والطبراني في "الكبير" (92)، وأبو نُعيم في "الحلية" 1/ 60، وفي "معرفة الصحابة" (223) و (224)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (5778)، وابن عساكر 39/ 16 من طرق عن عبد الله بن لهيعة، به.
حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن مبارک نے "الزہد" (رقم: 755) میں، طبرانی نے "الکبیر" (رقم: 92) میں، ابو نعیم نے "الحلیۃ" (1/ 60) اور "معرفۃ الصحابہ" (223، 224) میں، بیہقی نے "شعب الایمان" (رقم: 5778) میں اور ابن عساکر (39/ 16) نے متعدد طرق سے عبد اللہ بن لہیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
والرّبطَة: كل مُلاءة ليست قطعتين، وقد يُسمَّى كل ثوب رقيق رَبطة.
نوٹ / توضیح: "الرَبطۃ": ہر وہ چادر جو دو ٹکڑوں میں نہ ہو، اور کبھی ہر باریک کپڑے کو بھی ربطہ کہہ دیا جاتا ہے۔
والمُمشّقة؛ أي: المصبوغة بالمِشْق، وهو الطين الأحمر.
نوٹ / توضیح: "المُمَشّقَۃ": جسے "مِشق" (گیرو/سرخ مٹی) سے رنگا گیا ہو۔
وضَرْبُ اللحم؛ أي: خفيف اللحم.
نوٹ / توضیح: "ضَرْبُ اللحم" یعنی: ہلکے گوشت والا (دبلا پتلا)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4582 سے ماخوذ ہے۔