کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ مسجد میں ادا کی گئی
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا سليمان بن حرب، حَدَّثَنَا وُهَيب، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: مر: أَنَّ عمر صُلِّي صلي عليه في المسجد، صلَّى عليه صهيبٌ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں ادا کی گئی اور سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔
حدَّثَناهُ أبو علي الحافظ، أخبرنا الهيثم بن خلف الدُّوري، حَدَّثَنَا حُسين بن عمرو بن محمد العَنْقَزي، حَدَّثَنَا قاسمٌ أخي، حَدَّثَنَا عبيدة، عن سفيان الثَّوْري، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: لما قُتل عمرُ ابْتَدَرَ عليٌّ وعثمانُ للصلاة عليه، فقال لهما صُهيب: إليكما عنِّي، فقد وَلِيتُ من أمرِكُما أكثرَ من الصلاة على عُمر، وأنا أصلِّي بكم المكتوبةَ، فصلَّى عليه صُهيبٌ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نماز جنازہ پڑھانے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگے، تب سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا: ”آپ دونوں مجھ سے پیچھے ہٹ جائیں، کیونکہ مجھے آپ دونوں کے امور پر سیدنا عمر کی نماز جنازہ پڑھانے سے زیادہ (امامت کا) اختیار دیا گیا ہے، اور میں ہی آپ لوگوں کو فرض نمازیں پڑھاتا رہا ہوں“، چنانچہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ہی آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔