حدیث نمبر: 4567
حدَّثَناهُ أبو علي الحافظ، أخبرنا الهيثم بن خلف الدُّوري، حَدَّثَنَا حُسين بن عمرو بن محمد العَنْقَزي، حَدَّثَنَا قاسمٌ أخي، حَدَّثَنَا عبيدة، عن سفيان الثَّوْري، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: لما قُتل عمرُ ابْتَدَرَ عليٌّ وعثمانُ للصلاة عليه، فقال لهما صُهيب: إليكما عنِّي، فقد وَلِيتُ من أمرِكُما أكثرَ من الصلاة على عُمر، وأنا أصلِّي بكم المكتوبةَ، فصلَّى عليه صُهيبٌ (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نماز جنازہ پڑھانے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگے، تب سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا: ”آپ دونوں مجھ سے پیچھے ہٹ جائیں، کیونکہ مجھے آپ دونوں کے امور پر سیدنا عمر کی نماز جنازہ پڑھانے سے زیادہ (امامت کا) اختیار دیا گیا ہے، اور میں ہی آپ لوگوں کو فرض نمازیں پڑھاتا رہا ہوں“، چنانچہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ہی آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4567
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف حُسين بن عمرو العَنْقَزي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف حُسين بن عمرو العَنْقَزي، وعبيدة المذكور لم نتبيّنْه، إلّا أنَّ يكون عُبيدَ بنَ القاسم نسيبَ سفيان الثوري، وتحرَّف إلى عبيدة، فإن يكن هو فهو متروك، واتهمه بعضهم.» [ترقيم الرساله 4567] [ترقيم الشركة 4543]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف حُسين بن عمرو العَنْقَزي، وعبيدة المذكور لم نتبيّنْه، إلّا أنَّ يكون عُبيدَ بنَ القاسم نسيبَ سفيان الثوري، وتحرَّف إلى عبيدة، فإن يكن هو فهو متروك، واتهمه بعضهم.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسین بن عمرو العنقزی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور (سند میں) مذکور "عبیدہ" کی شناخت نہیں ہو سکی، سوائے اس کے کہ وہ "عبید بن قاسم" (سفیان ثوری کا رشتہ دار) ہو جس کا نام بدل کر (تصحیف ہو کر) "عبیدہ" ہو گیا ہو۔ اگر وہ وہی ہے تو وہ متروک راوی ہے، اور بعض نے اس پر الزام لگایا ہے۔
وقد صح أنَّ صُهيبًا هو الذي صلَّى على عمر في حديث ابن عمر الذي قبله، وأما ابتدار علي وعثمان للصلاة عليه فلم يرو إلَّا بإسناد لا يصحّ، وممن روى ذلك الواقديُّ فيما نقله عنه ابن سعد في "الطبقات" 3/ 341 من طريقين مرسلين انفرد بهما الواقدي على إبهام راوٍ في أحدهما.
اہم نکتہ: ابن عمر کی پچھلی حدیث سے یہ صحیح ثابت ہو چکا ہے کہ صہیب رضی اللہ عنہ ہی نے حضرت عمر پر نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ باقی رہا علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کا نماز جنازہ کے لیے آگے بڑھنا، تو یہ کسی صحیح سند سے مروی نہیں ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے روایت کرنے والوں میں واقدی شامل ہے جیسا کہ ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 341) میں ان سے دو مرسل طریقوں سے نقل کیا ہے، جن میں واقدی منفرد ہے اور ان میں سے ایک میں راوی مبہم ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4567 سے ماخوذ ہے۔