حدیث نمبر: 4507
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كثير الصَّنْعاني، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: لما أُسري بالنبيّ ﷺ إلى المسجد الأقصى أصبحَ يتحدّثُ الناسُ بذلك، فارتدَّ ناسٌ ممّن كانوا آمَنُوا به وصدَّقوه، وسَعَى رجالٌ من المشركين إلى أبي بكر، فقالوا: هل لك إلى صاحبِك يَزعُم أنه أُسري به الليلةَ إلى بيتِ المَقدِس! قال: أوَقال ذلك؟ قالوا: نعم، قال: لئن قال ذلك لقد صَدَق، قالوا: وتُصدِّقه أنه ذهب الليلةَ إلى بيت المَقدِس وجاء قبل أن يُصبح؟! فقال: نعم، إني لأصدِّقُه بما هو أبعدُ من ذلك؛ أُصدِّقه في خَبرِ السماء في غَدُوةٍ أو رَوْحة؛ فلذلك سُمِّي أبا بكر الصِّدِّيق (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، فإنَّ محمد بن كثير الصَّنْعاني صَدُوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4458 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو مسجدِ اقصیٰ کی سیر کرائی گئی تو صبح کے وقت لوگ اس کے بارے میں چہ میگوئیاں کرنے لگے، اس پر وہ لوگ بھی مرتد ہو گئے جو آپ ﷺ پر ایمان لا چکے تھے اور آپ ﷺ کی تصدیق کر چکے تھے، اور کچھ مشرکین دوڑتے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہنے لگے: کیا آپ کو اپنے صاحب کے متعلق کچھ خبر ہے؟ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آج رات انہیں بیت المقدس کی سیر کرائی گئی ہے! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا انہوں نے واقعی یہ فرمایا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر انہوں نے یہ فرمایا ہے تو یقیناً بالکل سچ فرمایا ہے۔“ ان لوگوں نے پوچھا: کیا آپ اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟! آپ نے فرمایا: ”جی ہاں، میں تو اس سے بھی زیادہ دور کی بات میں ان کی تصدیق کرتا ہوں؛ میں تو صبح و شام آسمان سے آنے والی خبر یعنی وحی کے معاملے میں ان کی بلا جھجھک تصدیق کرتا ہوں“؛ اسی وجہ سے ان کا نام ابوبکر صدیق پڑ گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، بیشک محمد بن کثیر صنعانی صدوق ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4507
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف موصولًا كما تقدم بيانه عند مُكرَّره المتقدم برقم (4455).» [ترقيم الرساله 4507] [ترقيم الشركة 4484] [ترقيم العلميه 4458]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف موصولًا كما تقدم بيانه عند مُكرَّره المتقدم برقم (4455).
درجۂ حدیث: موصولاً (متصل ہونے کی صورت میں) اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے، جیسا کہ (نمبر 4455) پر اس کے مکرر کے بیان میں گزر چکا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4507 سے ماخوذ ہے۔