حدَّثَناه أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا حُمَيد بن عيّاش الرَّمْلي، حدثنا المؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن سعيد بن جُمْهان، عن سَفِينة مولى أم سلمة، قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا صلَّى الصُّبحَ قال: "أيُّكم رأى الليلةَ رُؤيا؟ " قال: فصلَّى ذاتَ يوم الصُّبحَ، ثم أقبل على أصحابه فقال: "أيُّكم رأى رُؤيا؟ "، فقال رجلٌ: أنا رأيتُ يا رسولَ الله كأنَّ ميزانًا دُلِّي من السماء، فوُضِعْتَ في كِفّةٍ، ووُضِعَ أبو بكر في كِفّةٍ أُخرى، فرجَحْتَ بأبي بكرٍ، فرُفعْتَ وتُرك أبو بكر مكانَه، فجيءَ بعمرَ بن الخطاب فوُضِعَ في الكِفّة الأخرى، فرجَح أبو بكر بعُمر، فرُفع أبو بكْرٍ وتُرك عمرُ مكانه، وجيء بعثمان بن عفّان، فوُضِعَ في الكفّة الأخرى، فرجَح عمرُ بعُثمان، ثم رُفِعا ورُفع الميزان، قال: فتغيَّر وجهُ رسولِ الله ﷺ، ثم قال: "خِلافةُ النُّبوةِ ثلاثون عامًا، ثم يكون مُلكٌ". قال سعيد بن جُمْهان: فقال لي سَفينة: أمسِكُ: سَنَتَي أبي بكر، وعشرًا عمر، وثِنَتي عشرةَ عثمانُ، وسِتًّا عليٌّ، ﵃ أجمعين (1). وقد أسندت هذه الرؤيا بإسناد صحيح مرفوعًا إلى النبي ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4438 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4438 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھا لیتے تو دریافت فرماتے: ”آج رات تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ ایک دن آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر دریافت فرمایا: ”تم میں سے کس نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا ہے گویا آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا، پھر آپ کو ایک پلڑے میں اور ابوبکر کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو آپ کا پلڑا ابوبکر سے بھاری رہا، پھر آپ کو اٹھا لیا گیا اور ابوبکر وہیں رہے، پھر عمر بن خطاب کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو ابوبکر کا پلڑا عمر سے بھاری رہا، پھر ابوبکر کو اٹھا لیا گیا اور عمر وہیں رہے، پھر عثمان بن عفان کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو عمر کا پلڑا عثمان سے بھاری رہا، پھر ان دونوں کو بھی اٹھا لیا گیا اور ترازو بھی اٹھا لیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”خلافتِ نبوت تیس سال رہے گی، اس کے بعد بادشاہت ہوگی۔“ سعید بن جمہان کہتے ہیں: مجھ سے سفینہ رضی اللہ عنہ نے کہا: (ان سالوں کو) شمار کر لو: ابوبکر کے دو سال، عمر کے دس سال، عثمان کے بارہ سال اور علی کے چھ سال (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مهديّ بن رُستُم، حدثنا موسى بن هارون البُرْدِي، حدثنا محمد بن حَرْب، حدثني الزُّبَيدي، عن الزُّهْري، عن عمرو بن أبان بن عثمان بن عفّان، عن جابر بن عبد الله، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "أُريَ الليلة رجلٌ صالح أنَّ أبا بكر نِيطَ برسولِ الله، ونِيطَ عمرُ بأبي بكرٍ، ونِيطَ عثمانُ بعمرَ". قال جابر: فلما قُمنا من عند النبي ﷺ قلنا: الرجلُ الصالحُ النبيُّ ﷺ، وأما ما ذَكَرَ من نَوْطِ بعضِهم بعضًا، فهُم وُلاةُ هذا الأمرِ الذي بَعَثَ الله به نبيِّه ﷺ (1). ولِعاقبة هذا الحديث إسنادٌ صحيحٌ عن أبي هريرة، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4439 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4439 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات ایک صالح شخص کو خواب دکھایا گیا کہ ابوبکر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیوست ہیں، عمر ابوبکر کے ساتھ پیوست ہیں اور عثمان عمر کے ساتھ پیوست ہیں۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ہم نبی کریم ﷺ کے پاس سے اٹھے تو ہم نے کہا کہ وہ ”صالح شخص“ تو خود نبی کریم ﷺ ہی ہیں، اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہونے کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اس امر (خلافت) کے والی ہوں گے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ من أصل كتابه، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا هُشيم، عن العوّام بن حَوشَب، عن سليمان بن أبي سليمان، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "الخِلافةُ بالمدينةِ، والمُلكُ بالشامِ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4440 - سليمان بن أبي سليمان وأبوه مجهولان
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4440 - سليمان بن أبي سليمان وأبوه مجهولان
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خلافت مدینہ میں ہوگی اور بادشاہت شام میں ہوگی۔“
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القَزّاز، حدثنا أبو عَتّاب سهل بن حمّاد، حدثنا المُختار بن نافع، حدثنا أبو حَيّان التَّيمي، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله ﷺ: "رَحِمَ اللهُ أبا بكر، زوَّجني ابنتَه، وحَمَلني إلى دار الهِجْرة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4441 - حذفه الذهبي من التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4441 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، زَوَّجَنِي ابْنَتَهُ، وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ.» ”اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی صاحبزادی کا نکاح مجھ سے کیا اور مجھے ہجرت کے گھر (مدینہ) تک پہنچایا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن الصَّقْر، حدثنا إبراهيم بن المُنذر الحِزَامي، حدثنا معن بن عيسى، حدثنا عَبد الله بن عمر بن حفص، عن نافع، عن ابن عمر قال: لما دخَل رسولُ الله ﷺ عامَ الفتحِ رأى النساءَ يَلْطُمْن وجوهَ الخِيلِ بالخُمُر، فتبسّم إلى أبي بكر وقال: "يا أبا بكر"، كيف قال حسانُ بن ثابتٍ؟ "، فأنشده أبو بكر: عَدِمتُ بُنَيَّتي إن لم تَرَوها … تُثيرُ النَّقعَ مِن كَنَفَي كَدَاءِ (1) يُنازِعنَ الأسِنَّةَ مُسرِعاتٍ … يُلطّمُهنَّ بالخُمُرِ النساءُ فقال رسول الله ﷺ: ادخُلُوا من حيثُ قال حسّانُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4442 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4442 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ (مکہ میں) داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے دوپٹوں سے گھوڑوں کے چہروں کو مار رہی ہیں، آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور پوچھا: ”اے ابوبکر! حسان بن ثابت نے (اس بارے میں) کیا کہا تھا؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ اشعار سنائے: ”میں اپنی بیٹی سے محروم ہو جاؤں اگر تم ان (گھوڑوں) کو کداء کے دونوں اطراف سے گرد اڑاتے ہوئے نہ دیکھو، وہ تیز رفتاری سے نیزوں کو کھینچ رہے ہوں گے اور عورتیں اپنے دوپٹوں سے ان (گھوڑوں) کو مار رہی ہوں گی۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہیں سے داخل ہو جاؤ جہاں کا ذکر حسان نے کیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو محمد المُزَني، وأبو سعيد الثقفي، قالا: حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا ضِرار بن صُرَدٍ، حدثنا شَريك (1)، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرّة، عن عبد الله بن سَلِمة، عن عَبِيدة السَّلْماني، عن عبد الله بن مسعود، قال: كنا عند النبيّ ﷺ فقال: "يَطَّلع عليكم رجلٌ مِن أهل الجنّة"، فاطّلَع أبو بكرٍ فسَلَّم، ثم جَلَس (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4443 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4443 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی تمہارے سامنے ایک جنتی شخص نمودار ہوگا“، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے، سلام کیا اور بیٹھ گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔