أخبرنا محمد بن المُؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا يوسف بن عَدي ونعيم بن حماد، قالا: حدثنا عبد الله بن المبارك، أخبرني عُمر بن سعيد بن أبي حُسين القرشي، عن ابن أبي مُلَيكة، قال: سمعت ابن عبّاس يقولُ: لما وُضِع عمرُ بن الخطاب على سَريره، فتَكنَّفه الناسُ يَدْعُون له وأنا فيهم، فجاء عليُّ بن أبي طالب فقال: إن كنتُ لأظنُّ أن يجعلَكَ الله تعالى مع صاحبَيك، وذاك أني كنتُ أُكثرُ أن أسمعَ رسولَ الله ﷺ يقول: ذهبتُ أنا وأبو بكر وعمر، ودخلتُ أنا وأبو بكر وعمر، وخرجتُ أنا وأبو بكر وعمر، وإني كنتُ أظنُّ أن يَجعلَكَ الله معهما (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4427 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4427 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا جسدِ مبارک ان کے بستر پر رکھا گیا تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے اور ان کے لیے دعا کرنے لگے، میں بھی ان میں موجود تھا، تب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: ”میرا یہ گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر) کے ساتھ ہی رکھے گا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اکثر رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنتا تھا: ”میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، میں، ابوبکر اور عمر نکلے“، اور یقیناً میرا یہی خیال تھا کہ اللہ آپ کو ان دونوں کے ساتھ ہی رکھے گا“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أحمد بن إسحاق العَدْل الصَّيدلاني، حدثنا الحُسين بن الفَضْل، حدثنا علي بن بَحْر بن بَرِّي، حدثنا سعيد بن مَسلَمة القرشي، عن إسماعيل بن أُمية، عن نافع، عن ابن عمر، قال: دخلَ رسول الله ﷺ المسجدَ وإحدى يدَيه على أبي بكر والأُخرى على عمر، فقال: "هكذا نُبعَثُ يومَ القيامة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4428 - سعيد بن مسلمة القرشي ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4428 - سعيد بن مسلمة القرشي ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے جبکہ آپ کا ایک ہاتھ ابوبکر کے ہاتھ میں اور دوسرا عمر کے ہاتھ میں تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن ہمیں اسی طرح اٹھایا جائے گا“۔
أخبرنا عَبْدان بن يزيد الدَّقِيقي بهَمَذان، حدثنا عُمير بن مِرْداس، حدثنا عبد الله بن نافع الصائغ، حدثنا عاصم بن عُمر، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "أول من تَنشَقُّ عنه الأرضُ أنا، ثم أبو بكر ثم عمرُ ثم آتي البقيعَ فتَنشقُّ عنهم، فأُبعَثُ بينهم" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4429 - عاصم بن عمر هو أخو عبد الله ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4429 - عاصم بن عمر هو أخو عبد الله ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین پھٹے گی، پھر ابوبکر سے، پھر عمر سے، پھر میں اہل بقیع کے پاس آؤں گا تو ان سے زمین پھٹ جائے گی اور میں ان کے درمیان سے اٹھایا جاؤں گا“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن سليمان الواسِطي، حدثنا أبو نُعيم وخَلّاد بن يحيى، قالا: حدثنا مِسْعَر، عن أبي عَون الثقَفي، عن أبي صالح الحَنَفي، عن علي قال: قال لي النبيُّ ﷺ ولأبي بكر: "مع أحدِكُما جبريلُ، ومع الآخرِ ميكائيلُ، وإسرافيلُ مَلَكٌ عظيمٌ يَشهَدُ القتالَ ويكون في الصَّفِّ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4430 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4430 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے اور ابوبکر سے فرمایا: ”تم میں سے ایک کے ساتھ جبرائیل ہیں اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ہیں، اور اسرافیل ایک عظیم فرشتے ہیں جو لڑائی میں حاضر ہوتے ہیں اور صف میں موجود ہوتے ہیں“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔