حدیث نمبر: 4478
أخبرنا عَبْدان بن يزيد الدَّقِيقي بهَمَذان، حدثنا عُمير بن مِرْداس، حدثنا عبد الله بن نافع الصائغ، حدثنا عاصم بن عُمر، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "أول من تَنشَقُّ عنه الأرضُ أنا، ثم أبو بكر ثم عمرُ ثم آتي البقيعَ فتَنشقُّ عنهم، فأُبعَثُ بينهم" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4429 - عاصم بن عمر هو أخو عبد الله ضعفوه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین پھٹے گی، پھر ابوبکر سے، پھر عمر سے، پھر میں اہل بقیع کے پاس آؤں گا تو ان سے زمین پھٹ جائے گی اور میں ان کے درمیان سے اٹھایا جاؤں گا“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4478
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف كما تقدم بيانه برقم (3774)
تخریج حدیث «إسناده ضعيف كما تقدم بيانه برقم (3774) من طريق سريج بن النُّعمان عن عبد الله بن نافع، ومع ذلك حسّنه الترمذي، وصحَّحه ابن حبان! وأخرجه الترمذي (3692) عن سلمة بن شبيب وابن حبان (6899) من طريق إبراهيم بن يعقوب الجُوزَجاني، كلاهما عن عبد الله بن نافع بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 4478] [ترقيم الشركة 4455] [ترقيم العلميه 4429]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف كما تقدم بيانه برقم (3774) من طريق سريج بن النُّعمان عن عبد الله بن نافع، ومع ذلك حسّنه الترمذي، وصحَّحه ابن حبان! وأخرجه الترمذي (3692) عن سلمة بن شبيب وابن حبان (6899) من طريق إبراهيم بن يعقوب الجُوزَجاني، كلاهما عن عبد الله بن نافع بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے جیسا کہ (نمبر 3774) پر سریج بن النعمان > عبداللہ بن نافع کے طریق سے اس کا بیان گزر چکا ہے۔ اس کے باوجود ترمذی نے اسے ’’حسن‘‘ اور ابن حبان نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے!
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3692) نے سلمہ بن شبیب سے، اور ابن حبان (6899) نے ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی سے، دونوں نے عبداللہ بن نافع سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
نوٹ / توضیح: اور اس سے پہلے والی (روایت) دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4478 سے ماخوذ ہے۔