کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: وہ احادیث جن سے حضرت ابو بکرؓ کو صدیق کہلائے جانے کا مفہوم نکلتا ہے
أخبرني أحمد بن محمد بن واصل المُطَّوِّعي ببِيكَنْد، حدثني أبَي، حدثنا محمد بن إسماعيل، حدثني أحمد بن حنبل، حدثنا إسحاق بن منصور السَّلُولي، سمع محمدَ بن سليمان السَّعيدي (2) يحدِّث عن هارون بن سعْد، عن عِمران بن ظَبْيان، عن أبي تِحْيَى، سمع عليًّا يحلفُ: لأنزَلَ الله تعالى اسمَ أبي بكر من السماء صِدِّيقًا (1). لولا مكانُ محمد بن سليمان السَّعيدي من الجهالة، لحكمتُ لهذا الإسناد بالصحّة. وله شاهدٌ من حديث النَّزّال بن سَبْرة عن عليٍّ ﵇:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4405 - لولا جهالة محمد بن سليمان السعيدي شيخ إسحاق السلولي لحكمت بصحته
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4405 - لولا جهالة محمد بن سليمان السعيدي شيخ إسحاق السلولي لحكمت بصحته
حافظ طلحہ بابر
ابو تحییٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر یہ فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ابوبکر کا نام ”صدیق“ نازل فرمایا ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اگر اس کی سند میں محمد بن سلیمان سعیدی مجہول نہ ہوتے تو میں اس سند کے صحیح ہونے کا حکم لگا دیتا، تاہم اس کا شاہد نزال بن سبرہ کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی روایت ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اگر اس کی سند میں محمد بن سلیمان سعیدی مجہول نہ ہوتے تو میں اس سند کے صحیح ہونے کا حکم لگا دیتا، تاہم اس کا شاہد نزال بن سبرہ کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی روایت ہے۔
حدَّثَناه عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، حدثني أَبي، حدثنا إسحاق بن يوسف، حدثنا أبو سِنان، عن الضَّحّاك، حدثنا النَّزّال بن سَبْرة، قال: وافَقْنا عليًا طيّبَ النفسِ وهو يمزَحُ، فقلنا: حدِّثنا عن أصحابِك، قال: كلُّ أصحاب رسولِ الله ﷺ أصحابي، فقلنا: حدِّثنا عن أبي بكر، قال: ذاك امرُؤٌ سمَّاهُ الله صِدِّيقًا على لسان جبريلَ ومحمدٍ صلى الله عليهما (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4406 - هلال بن العلاء منكر الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4406 - هلال بن العلاء منكر الحديث
حافظ طلحہ بابر
نزال بن سبرہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہماری ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی جبکہ وہ خوشگوار موڈ میں تھے اور مزاح فرما رہے تھے، ہم نے عرض کی: ہمیں اپنے ساتھیوں کے متعلق بتائیے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ میرے بھی ساتھی ہیں، ہم نے کہا: ہمیں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق بتائیے، انہوں نے فرمایا: وہ ایسی ہستی ہیں جن کا نام اللہ نے جبرائیل علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر ”صدیق“ رکھا ہے۔
أخبرني مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كثير الصَّنْعاني، حدثنا معمر بن راشد عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة، قالت: لما أُسريَ بالنبي ﷺ إلى المسجدِ الأقصى أصبحَ يتحدَّثُ الناسُ بذلك، فارتدَّ ناسٌ ممَّن كانوا آمنوا به وصدَّقُوه، وسَعَوا بذلك إلى أبي بكر، فقالوا: هل لك إلى صاحبِك يَزعم أنه أُسرِيَ به الليلةَ إلى بيت المقدِس، قال: أوَقال ذلك؟ قالوا: نعم، قال: لَئن كان قال ذلك لقد صَدَق، قالوا: وتصدّقُه أنه ذهب الليلةَ إلى بيت المقدس وجاء قبل أن يُصبحَ؟ قال: نعم، إني لأُصدِّقُه فيما هو أبعدُ من ذلك، أصدِّقُه بخبر السماء في غَدُوةٍ أو رَوْحةٍ. فلذلك سُمّي أبو بكر الصِّدِّيق (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4407 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4407 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبی کریم ﷺ کو مسجدِ اقصیٰ کی سیر کرائی گئی (واقعہ معراج پیش آیا) تو صبح لوگ اس کے متعلق باتیں کرنے لگے، اس پر وہ لوگ مرتد ہو گئے جو پہلے ایمان لا چکے تھے اور آپ ﷺ کی تصدیق کی تھی، اور وہ دوڑ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: کیا آپ کو اپنے ساتھی کے بارے میں کچھ معلوم ہے؟ ان کا دعویٰ ہے کہ آج رات انہیں بیت المقدس کی سیر کرائی گئی ہے، انہوں نے پوچھا: ”کیا واقعی انہوں نے یہ بات کہی ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: ”اگر انہوں نے یہ فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے“، لوگوں نے (حیرت سے) پوچھا: کیا آپ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ راتوں رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں، میں تو اس سے بھی زیادہ دور کی (ایمانی) باتوں میں ان کی تصدیق کرتا ہوں، میں صبح و شام ان کے پاس آنے والی آسمانی وحی کی خبر کی بھی تصدیق کرتا ہوں“، اسی وجہ سے ابوبکر کا نام ”صدیق“ پڑ گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔