کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا عبد الله بن أسامة (1) الحَلَبي، حدثنا حجّاج بن أبي مَنيع، عن جدِّه، عن الزُّهْري، قال: أبو بكر الصِّدِّيق اسمه عبد الله بن عثمان بن عامر بن عَمرو بن كعب بن سعد بن تَيْم بن مُرّة بن كعب بن لُؤي بن غالب بن فِهْر (2).
حافظ طلحہ بابر
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر ہے۔
حدثنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا عبد الله بن رَوْح المدائني، حدثنا شَبَابة، حدثنا صالح بن موسى الطَّلْحي، عن معاوية بن إسحاق، عن عائشة بنت طلحة، عن عائشة أم المؤمنين، قالت: قال رسول الله ﷺ: "مَن سَرَّه أَن يَنظُر إِلى عَتيقٍ من النار، فليَنظُرْ إلى أبي بكر". وإنَّ اسمَه الذي سمَّاه أهلُه: لَعبدُ الله بن عثمان بن عامر بن عمرو حيث وُلِد، فغَلَبَ عليه اسمُ عَتيق (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4404 - صالح ضعفوه والسند مظلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4404 - صالح ضعفوه والسند مظلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے یہ دیکھ کر خوشی ہو کہ وہ جہنم سے آزاد (عتیق) شخص کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ ابوبکر کو دیکھ لے“، اور ان کا وہ نام جو ان کی پیدائش کے وقت ان کے گھر والوں نے رکھا تھا وہ عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو تھا، پھر ان پر ”عتیق“ کا نام غالب آگیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔