کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: حضرت عائشہؓ کا خواب کہ تین چاند ان کے حجرے میں گرے اور اس کی تعبیر
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: حدَّثنا بشر بن موسى، حدَّثنا الحُميدي، حدَّثنا سفيان، قال: سمعتُ يحيى بن سعيد يُحدّث عن سعيد بن المسيّب، قال: قالت عائشة: رأيتُ كأنَّ ثلاثةَ أقمارٍ سقطتْ في حُجْرتي، فسألت أبا بكر، فقال: يا عائشةُ، إن تَصدُق رؤياكِ يُدفَنْ في بيتِك خيرُ أهلِ الأرض ثلاثةٌ، فلما قُبض رسولُ الله ﷺ ودُفن، قال لي أبو بكر: يا عائشةُ، هذا خير أقمارِك، وهو أحدُها (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وقد كتبناه من حديث أنس بن مالك مسندًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4400 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا کہ گویا تین چاند میرے حجرے میں گرے ہیں، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”اے عائشہ! اگر تمہارا خواب سچا ہے تو تمہارے گھر میں روئے زمین کے تین بہترین افراد دفن ہوں گے“، پھر جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا اور آپ کو دفن کر دیا گیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ (رسول اللہ ﷺ) تمہارے ان چاندوں میں سب سے بہتر ہیں اور یہ ان تین میں سے پہلے ہیں“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4448
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وهذ إسناد رجاله ثقات لكنه مرسل، فقد رواه إسحاق بن موسى الخَطْمي عن سفيان - وهو ابن عُيينة - عند البيهقيّ في "الدلائل" 7/ 261 بلفظ ظاهر في الإرسال، حيث قال في روايته عن سعيد بن المسيب، قال: عرضتْ عائشة على أبيها رؤيا، وكان أعبَرَ الناسِ …» [ترقيم الرساله 4448] [ترقيم الشركة 4425] [ترقيم العلميه 4400]
حدَّثنا علي بن حَمْشاذَ، حدَّثنا جُنَيد بن حَكيم الدَّقاق، حدَّثنا موسى بن عبد الله السُّلَمي، حدَّثنا عمر بن سعيد الأبَحّ، عن ابن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن أنس، قال: كان النبيُّ ﷺ يُعجِبُه الرؤيا، قال: "هل رأى أحدٌ منكم رؤيا اليومَ؟ " قالت عائشة: رأيتُ كأنَّ ثلاثةَ أقمارٍ سَقَطْن في حُجْرتي، فقال لها النبيُّ ﷺ: "إن صَدَقتْ رُؤياكِ دُفِنَ في بيتِك ثلاثةٌ هم أفضلُ - أو خيرُ - أهلِ الأرض". فلما تُوفّي النبيُّ ﷺ ودُفِنَ في بيتها، قال لها أبو بكر: هذا أحدُ أقمارِك وهو خَيرُها. ثم تُوفّي أبو بكر وعمر فدُفِنا في بيتها (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اچھے خواب پسند تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا آج تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: میں نے دیکھا ہے گویا تین چاند میرے حجرے میں گرے ہیں، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تمہارا خواب سچا ہے تو تمہارے گھر میں تین ایسی ہستیاں دفن ہوں گی جو روئے زمین کے تمام لوگوں میں سب سے افضل - یا بہترین - ہوں گی“، پھر جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا اور آپ کو ان کے حجرے میں دفن کیا گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”یہ تمہارے ان چاندوں میں سے ایک ہے اور یہ ان سب میں بہترین ہے“، اس کے بعد سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا بھی انتقال ہوا اور وہ دونوں بھی ان کے حجرے میں دفن ہوئے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4449
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف عمر بن سعيد الأبحّ
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عمر بن سعيد الأبحّ، وقال الذهبي في "تلخيصه": هو أحد الضعفاء، وتفرَّد به عنه موسى بن عبد الله السُّلمي، لا أدري من هو. قلنا: قد عرَفَه الذهبي في "تاريخ الإسلام 5/ 945، فقد ذكره وذكر جماعةً رووا عنه، فيبقى الشأن في ضعف عمر الأبحّ، وقد قال ابن ...» [ترقيم الرساله 4449] [ترقيم الشركة 4426]
أخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدّثني أبي، حدَّثنا حماد بن أسامة، أخبرنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كنت أدخُلُ بيتي الذي فيه رسولُ الله ﷺ وأبي، وأضَعُ ثوبي، وأقولُ: إنما هو زوجي وأبي، فلما دُفن عمرُ معهم، فواللهِ ما دخلتُ إلَّا وأنا مَشدُودةٌ عليَّ ثيابي حَياءً من عمر (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [كتاب معرفة الصحابة ﵃] أمّا الشيخان فإنهما لم يزيدا على المناقِبِ، وقد بدأنا في أول ذكر الصحابي بمعرفة نسَبه ووفاته، ثم بما يَصِحُّ على شرطهما من مَناقِبه مما لم يُخرجاه، فلم أستغنِ عن ذكر محمد بن عُمر الواقدي وأقرانِه في المعرفة. [أبو بكر بن أبي قُحافة ﵄] فمن فضائل خَليفة رسول الله ﷺ، أبو بكر بن أبي قُحَافة الصِّديق ﵁، ممّا لم يُخرجاه:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے اس گھر میں جہاں رسول اللہ ﷺ اور میرے والد (ابوبکر) مدفون ہیں، (پردے کی چادر اتار کر عام لباس میں) داخل ہو جایا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ یہاں تو صرف میرے شوہر اور میرے والد ہی ہیں، لیکن جب وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دفن ہوئے تو اللہ کی قسم! میں جب بھی وہاں داخل ہوتی ہوں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حیا کی وجہ سے اپنے کپڑے اچھی طرح لپیٹ کر ہی جاتی ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4450
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عروة: هو ابن الزبير بن العوام.» [ترقيم الرساله 4450] [ترقيم الشركة 4427]