حدیث نمبر: 4450
أخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدّثني أبي، حدَّثنا حماد بن أسامة، أخبرنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كنت أدخُلُ بيتي الذي فيه رسولُ الله ﷺ وأبي، وأضَعُ ثوبي، وأقولُ: إنما هو زوجي وأبي، فلما دُفن عمرُ معهم، فواللهِ ما دخلتُ إلَّا وأنا مَشدُودةٌ عليَّ ثيابي حَياءً من عمر (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [كتاب معرفة الصحابة ﵃] أمّا الشيخان فإنهما لم يزيدا على المناقِبِ، وقد بدأنا في أول ذكر الصحابي بمعرفة نسَبه ووفاته، ثم بما يَصِحُّ على شرطهما من مَناقِبه مما لم يُخرجاه، فلم أستغنِ عن ذكر محمد بن عُمر الواقدي وأقرانِه في المعرفة. [أبو بكر بن أبي قُحافة ﵄] فمن فضائل خَليفة رسول الله ﷺ، أبو بكر بن أبي قُحَافة الصِّديق ﵁، ممّا لم يُخرجاه:
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے اس گھر میں جہاں رسول اللہ ﷺ اور میرے والد (ابوبکر) مدفون ہیں، (پردے کی چادر اتار کر عام لباس میں) داخل ہو جایا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ یہاں تو صرف میرے شوہر اور میرے والد ہی ہیں، لیکن جب وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دفن ہوئے تو اللہ کی قسم! میں جب بھی وہاں داخل ہوتی ہوں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حیا کی وجہ سے اپنے کپڑے اچھی طرح لپیٹ کر ہی جاتی ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4450
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عروة: هو ابن الزبير بن العوام.» [ترقيم الرساله 4450] [ترقيم الشركة 4427]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. عروة: هو ابن الزبير بن العوام.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عروہ: یہ (عروہ) بن زبیر بن عوام ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 42/ (25660).
حوالہ / مصدر: یہ مسند احمد 42/ (25660) میں ہے۔
وسيأتي برقم (6870) من طريق الحسن بن علي بن عفان عن أبي أسامة حماد بن أسامة.
نوٹ / توضیح: یہ عنقریب (نمبر 6870) پر حسن بن علی بن عفان > ابو اسامہ حماد بن اسامہ کے طریق سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4450 سے ماخوذ ہے۔