حدیث نمبر: 4449
حدَّثنا علي بن حَمْشاذَ، حدَّثنا جُنَيد بن حَكيم الدَّقاق، حدَّثنا موسى بن عبد الله السُّلَمي، حدَّثنا عمر بن سعيد الأبَحّ، عن ابن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن أنس، قال: كان النبيُّ ﷺ يُعجِبُه الرؤيا، قال: "هل رأى أحدٌ منكم رؤيا اليومَ؟ " قالت عائشة: رأيتُ كأنَّ ثلاثةَ أقمارٍ سَقَطْن في حُجْرتي، فقال لها النبيُّ ﷺ: "إن صَدَقتْ رُؤياكِ دُفِنَ في بيتِك ثلاثةٌ هم أفضلُ - أو خيرُ - أهلِ الأرض". فلما تُوفّي النبيُّ ﷺ ودُفِنَ في بيتها، قال لها أبو بكر: هذا أحدُ أقمارِك وهو خَيرُها. ثم تُوفّي أبو بكر وعمر فدُفِنا في بيتها (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اچھے خواب پسند تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا آج تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: میں نے دیکھا ہے گویا تین چاند میرے حجرے میں گرے ہیں، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تمہارا خواب سچا ہے تو تمہارے گھر میں تین ایسی ہستیاں دفن ہوں گی جو روئے زمین کے تمام لوگوں میں سب سے افضل - یا بہترین - ہوں گی“، پھر جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا اور آپ کو ان کے حجرے میں دفن کیا گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”یہ تمہارے ان چاندوں میں سے ایک ہے اور یہ ان سب میں بہترین ہے“، اس کے بعد سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا بھی انتقال ہوا اور وہ دونوں بھی ان کے حجرے میں دفن ہوئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4449
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف عمر بن سعيد الأبحّ
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عمر بن سعيد الأبحّ، وقال الذهبي في "تلخيصه": هو أحد الضعفاء، وتفرَّد به عنه موسى بن عبد الله السُّلمي، لا أدري من هو. قلنا: قد عرَفَه الذهبي في "تاريخ الإسلام 5/ 945، فقد ذكره وذكر جماعةً رووا عنه، فيبقى الشأن في ضعف عمر الأبحّ، وقد قال ابن ...» [ترقيم الرساله 4449] [ترقيم الشركة 4426]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف عمر بن سعيد الأبحّ، وقال الذهبي في "تلخيصه": هو أحد الضعفاء، وتفرَّد به عنه موسى بن عبد الله السُّلمي، لا أدري من هو. قلنا: قد عرَفَه الذهبي في "تاريخ الإسلام 5/ 945، فقد ذكره وذكر جماعةً رووا عنه، فيبقى الشأن في ضعف عمر الأبحّ، وقد قال ابن حبان في "المجروحين" 2/ 87: روى عن سعيد بن أبي عَروبة عن قَتَادة عن أنس نسخةً لم يُتابع عليها.
درجۂ حدیث: اس کی سند عمر بن سعید الابح کے ضعف کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ ہے۔ ذہبی نے اپنی تلخیص میں کہا: ’’وہ ضعفاء میں سے ہے، اور اس حدیث میں موسیٰ بن عبداللہ السلمی اس سے روایت کرنے میں منفرد ہے، میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہے۔‘‘ ہم کہتے ہیں: ذہبی نے ’’تاریخ الاسلام‘‘ 5/ 945 میں اسے پہچانا ہے اور اس کا ذکر کیا ہے اور ان سے روایت کرنے والی ایک جماعت کا ذکر کیا ہے، لہٰذا اصل مسئلہ عمر الابح کا ضعف ہی رہ جاتا ہے۔ ابن حبان (المجروحین 2/ 87) نے کہا: اس نے سعید بن ابی عروبہ > قتادہ > انس سے ایک نسخہ روایت کیا جس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
وجُنيد بن حكيم الدقَّاق ليس بالقويّ، وخالفه العباس بن الفضل الأسفاطي عند الطبراني في "الكبير" 23/ (128)، فرواه عن موسى بن عبد الله، عن عمر الأبحّ، عن سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن أبي بكر.
فنی نکتہ / علّت: جنید بن حکیم الدقاق بھی قوی نہیں ہیں۔ اور عباس بن الفضل الاسفاطی نے (طبرانی الکبیر 23/ 128 میں) ان کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے: موسیٰ بن عبداللہ > عمر الابح > سعید بن ابی عروبہ > قتادہ > الحسن > ابوبکر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
تنبيه: قد جاء في بعض كتب التراجم نسبةُ موسى بن عبد الله بالسِّلعي، بالعين المهملة بدل الميم، كما في "الإكمال" لابن نقطة البغدادي، وضبطه بكسر السين، فيجوز أن يكون السلمي تحريف عن السِّلعي، والله تعالى أعلم.
نوٹ / توضیح: تنبیہ: بعض تراجم کی کتب (جیسے ابن نقطہ البغدادی کی ’’الاکمال‘‘) میں موسیٰ بن عبداللہ کی نسبت ’’السِّلعي‘‘ (میم کی بجائے عین مہملہ کے ساتھ) آئی ہے، اور سین کے نیچے زیر کے ساتھ ضبط کیا گیا ہے۔ لہٰذا ممکن ہے کہ ’’السلمی‘‘ دراصل ’’السلعی‘‘ سے تحریف شدہ ہو، واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4449 سے ماخوذ ہے۔