حدیث نمبر: 4356
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني حسين بن عبد الله بن عبيد الله بن عباس، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: لما رجع رسول الله ﷺ أعطى فاطمة ابنته سيفه، فقال: "يا بُنيّة، اغسلي عن هذا الدم"، فأعطاها على سيفه، فقال: وهذا فاغسلي عنه دمه، فوالله لقد صَدَقَني اليومَ القتال، فقال رسول الله ﷺ: "لئن كنتَ صَدَقْتَ القتال اليوم، لقد صَدَقَ معك القتال اليوم سهلُ بن حُنيف وسِماكُ بن خَرَشة أبو دُجانة" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4310 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ (میدانِ جنگ سے) واپس تشریف لائے تو اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنی تلوار عطا فرمائی اور فرمایا: ”اے پیاری بیٹی! اس سے خون دھو ڈالو“، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی تلوار انہیں تھمائی اور کہا: اس کا خون بھی صاف کر دو، اللہ کی قسم! آج قتال میں اس نے میرا بھرپور ساتھ دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے آج قتال کا حق سچائی سے ادا کیا ہے تو یقیناً تمہارے ساتھ سہل بن حنیف اور سماک بن خرشہ ابو دجانہ نے بھی قتال کا حق سچائی سے ادا کیا ہے“۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4356
درجۂ حدیث محدثین: حسن بسابقه
تخریج حدیث «حسن بسابقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبد الله بن عُبيد الله بن عبّاس.» [ترقيم الرساله 4356] [ترقيم الشركة 4333] [ترقيم العلميه 4310]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن بسابقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبد الله بن عُبيد الله بن عبّاس.
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث پچھلی حدیث کی وجہ سے حسن ہے، ورنہ یہ سند حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وهو عند المصنف في "فضائل فاطمة الزهراء" (129).
حوالہ / مصدر: یہ مصنف (حاکم) کے ہاں "فضائل فاطمہ الزہراء" (129) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن الأثير في "أسد الغابة" 2/ 299 من طريق رضوان بن أحمد، عن أحمد بن عبد الجبار، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن الاثیر نے "اسد الغابہ" (2/ 299) میں رضوان بن احمد عن احمد بن عبدالجبار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(1) هذا معضل لم يبين ابن إسحاق فيه إسناده، وقد روي موصولًا من حديث جابر عند البزار كما في "كشف الأستار" (1798) لكنه لا يُفرح به البتة، لأنَّ في إسناده رجلًا متروكًا.
درجۂ حدیث: (1) یہ معضل ہے، ابن اسحاق نے اس میں اپنی سند بیان نہیں کی۔ یہ جابر کی حدیث سے "موصولاً" بھی مروی ہے (بزار، کشف الاستار 1798)، لیکن اس پر خوش ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کی سند میں ایک "متروک" راوی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4356 سے ماخوذ ہے۔