حدیث نمبر: 4324
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا زيد بن أسلم، عن عبد الله بن عمر، قال: دَخَل رسول الله ﷺ مسجد بني عمرو بن عوف، وهو مسجد قُباءٍ، يصلّي فيه، فدخل عليه رجالٌ من الأنصار يُسلِّمون عليه، قال ابن عمر: ودخل معهم صهيبٌ، فسألته: كيف كان رسول الله ﷺ يَصنَع إذا سُلِّم عليه وهو في الصلاة، قال: كان يُشير بيده (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4278 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو عمرو بن عوف کی مسجد یعنی مسجد قباء میں داخل ہوئے تاکہ وہاں نماز پڑھیں، تب انصار کے کچھ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو سلام کرنے لگے، ابن عمر کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز کی حالت میں ہوں اور انہیں سلام کیا جائے تو آپ ﷺ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرماتے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4324
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،الحميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى الأسدي، وسفيان: هو ابن عيينة.» [ترقيم الرساله 4324] [ترقيم الشركة 4301] [ترقيم العلميه 4278]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى الأسدي، وسفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: حمیدی سے مراد "عبداللہ بن الزبیر بن عیسیٰ الاسدی" ہیں اور سفیان سے مراد "ابن عیینہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 8/ (4568)، وابن ماجه (1017)، والنسائي (1111)، وابن حبان (2258) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8/ 4568)، ابن ماجہ (1017)، نسائی (1111) اور ابن حبان (2258) نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 31 / (18931)، وأبو داود (925)، والترمذي (367)، والنسائي (1110)، وابن حبان (2259) من طريق نابل صاحب العباء، عن ابن عمر، عن صهيب.
حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح امام احمد (31/ 18931)، ابو داؤد (925)، ترمذی (367)، نسائی (1110) اور ابن حبان (2259) نے نابل صاحب العباء عن ابن عمر عن صہیب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أبو داود (927)، والترمذي (368) من طريق هشام بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، عن بلال بن رباح. وقال الترمذي: كلا الحديثين عندي صحيح، لأن قصة حديث صهيب غير قصة حديث بلال، وإن كان ابن عمر روى عنهما فاحتمل أن يكون سمع منهما جميعًا.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داؤد (927) اور ترمذی (368) نے ہشام بن سعد عن نافع عن ابن عمر عن بلال بن رباح کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: "میرے نزدیک دونوں حدیثیں (صہیب اور بلال والی) صحیح ہیں، کیونکہ صہیب کی حدیث کا واقعہ بلال کی حدیث کے واقعے سے مختلف ہے، اور اگرچہ ابن عمر نے دونوں سے روایت کی ہے لیکن یہ احتمال ہے کہ انہوں نے دونوں سے ہی سنا ہو۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4324 سے ماخوذ ہے۔