کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ہجرت کے وقت حضرت علیؓ کا رسول اللہ ﷺ کے بستر پر سونا
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا زياد بن الخليل التُّستَري، حدثنا كَثير بن يحيى، حدثنا أبو عَوانة، عن أبي بَلْجٍ، عن عمرو بن مَيمون، عن ابن عبّاس قال: شَرَى عليٌّ نفسَه ولبس ثوبَ النبي ﷺ، ثم نام مكانَه، وكان المشركون يَرمُون رسولَ الله ﷺ، وقد كان رسولُ الله ﷺ ألبَسَه بُرْدَه، وكانت قريش تريدُ أن تقتلَ النبيَّ ﷺ، فجعلوا يَرمُون عليًا، ويُرَونه النبيَّ ﷺ وقد لبِسَ بُرْدَه، وجعلَ عليّ يَتَصَوَّرُ، فإذا هو عليٌّ، فقالوا: إنك لَلَئيمٌ، إنك لَتتضوَّر وكان صاحبُك لا يَتضوَّر، ولقد استَنْكرناه منكَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وقد رواه أبو داود الطَّيَالسيُّ وغيرُه عن أبي عَوانة، بزيادةِ ألفاظٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4263 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کا سودا کیا اور نبی کریم ﷺ کی چادر اوڑھ کر آپ کی جگہ سو گئے، مشرکین رسول اللہ ﷺ کے بستر پر (پتھر) پھینک رہے تھے جبکہ آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر پہنا دی تھی، قریش نبی کریم ﷺ کو شہید کرنے کے درپے تھے، وہ مسلسل علی رضی اللہ عنہ پر پتھر مارتے رہے اور یہی گمان کرتے رہے کہ وہ نبی کریم ﷺ ہیں جنہوں نے اپنی چادر اوڑھ رکھی ہے، اس دوران علی رضی اللہ عنہ (تکلیف کی وجہ سے) کروٹیں بدلتے اور تڑپتے رہے، پھر جب مشرکین کو معلوم ہوا کہ یہ تو علی ہیں، تو انہوں نے کہا: تم تو بہت کم ظرف نکلے، تم تڑپ رہے تھے جبکہ تمہارے ساتھی (محمد ﷺ) تو کبھی نہیں تڑپتے تھے، اور ہمیں تمہاری اس حالت پر شک تو ہوا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا، اسے ابو داؤد طیالسی وغیرہ نے بھی ابو عوانہ سے بعض الفاظ کے اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4309
درجۂ حدیث محدثین: إسناده فيه مقال من أجل أبي بَلْج - واسمه يحيى بن سُليم
تخریج حدیث «إسناده فيه مقال من أجل أبي بَلْج - واسمه يحيى بن سُليم، ويقال: ابن أبي سُليم - كما سيأتي بيانه برقم (4702) حيث رواه من طريق يحيى بن حماد عن أبي عوانة - وهو الوضّاح بن عبد الله اليَشْكري - ضمن حديث طويل. عمرو بن ميمون: هو الأَوْدي.» [ترقيم الرساله 4309] [ترقيم الشركة 4286] [ترقيم العلميه 4263]
وقد حدّثَنا بَكْر بن محمد الصَّيرَفي بمَرُو، حدثنا عُبيد بن قُنفُذ البَزّار، حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحِمّاني، حدثنا قيس بن الربيع، حدثنا حَكيم بن جُبَير، عن علي بن الحسين، قال: إِنَّ أَوّل من شَرَى نفسَه ابتغاءَ رضوان الله عليُّ بنُ أبي طالب، وقال عليٌّ عند مَبِيتِه على فِراش رسول الله ﷺ: وَقَيتُ بنفسي خيرَ مَن وَطِئ الحَصا … ومَن طافَ بالبيتِ العَتيقِ وبالحِجْرِ رسولَ إلهٍ خافَ أن يمكُروا به … فنجَّاه ذو الطَّول الإلهُ من المكْرِ وباتَ رسولُ اللهِ في الغارِ آمِنًا … مُوَقًّى وفي حفظِ الإلهِ وفي سَتْرِ وبِتُّ أُراعِيهم وما يتمنَّونني … وقد وَطَّنْتُ نفسي على القَتْلِ والأَسْرِ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4264 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن حسین سے روایت ہے کہ بے شک اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان پیش کر دینے والے سب سے پہلے شخص علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، اور علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے بستر پر اس پرخطر رات میں یہ اشعار کہے: ”میں نے اپنی جان کے ذریعے اس ہستی کی حفاظت کی جو کنکریوں پر چلنے والوں اور بیتِ عتیق و حجرِ اسود کا طواف کرنے والوں میں سب سے بلند مرتبہ ہے، یعنی اللہ کے رسول (ﷺ)، جن کے متعلق اندیشہ تھا کہ دشمن مکر کریں گے، تو اللہ تعالیٰ نے جو صاحبِ فضل ہے انہیں اس مکر سے نجات دے دی، اللہ کے رسول ﷺ تو غار میں مکمل امن کے ساتھ رہے جہاں اللہ کی حفاظت اور پردہ ان کے ساتھ تھا، جبکہ میں ساری رات دشمنوں کی نگرانی کرتا رہا اور وہ میری موت کی تمنا کر رہے تھے، حالانکہ میں نے اپنے نفس کو قتل ہونے اور قید ہونے کے لیے بالکل تیار کر لیا تھا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4310
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف مَن بَين عُبيد بن قُنفذ وعلي بن الحسين
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف مَن بَين عُبيد بن قُنفذ وعلي بن الحسين، وجهالة عبيد، وهو مرسل أيضًا.» [ترقيم الرساله 4310] [ترقيم الشركة 4287] [ترقيم العلميه 4264]