المستدرك على الصحيحين
كتاب الهجرة— ہجرت کا بیان
بَيْتُوتَةُ عَلِيٍّ عَلَى فِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ عِنْدَ خُرُوجِهِ لِلْهِجْرَةِ باب: ہجرت کے وقت حضرت علیؓ کا رسول اللہ ﷺ کے بستر پر سونا
وقد حدّثَنا بَكْر بن محمد الصَّيرَفي بمَرُو، حدثنا عُبيد بن قُنفُذ البَزّار، حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحِمّاني، حدثنا قيس بن الربيع، حدثنا حَكيم بن جُبَير، عن علي بن الحسين، قال: إِنَّ أَوّل من شَرَى نفسَه ابتغاءَ رضوان الله عليُّ بنُ أبي طالب، وقال عليٌّ عند مَبِيتِه على فِراش رسول الله ﷺ: وَقَيتُ بنفسي خيرَ مَن وَطِئ الحَصا … ومَن طافَ بالبيتِ العَتيقِ وبالحِجْرِ رسولَ إلهٍ خافَ أن يمكُروا به … فنجَّاه ذو الطَّول الإلهُ من المكْرِ وباتَ رسولُ اللهِ في الغارِ آمِنًا … مُوَقًّى وفي حفظِ الإلهِ وفي سَتْرِ وبِتُّ أُراعِيهم وما يتمنَّونني … وقد وَطَّنْتُ نفسي على القَتْلِ والأَسْرِ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4264 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا علی بن حسین سے روایت ہے کہ بے شک اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان پیش کر دینے والے سب سے پہلے شخص علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، اور علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے بستر پر اس پرخطر رات میں یہ اشعار کہے: ”میں نے اپنی جان کے ذریعے اس ہستی کی حفاظت کی جو کنکریوں پر چلنے والوں اور بیتِ عتیق و حجرِ اسود کا طواف کرنے والوں میں سب سے بلند مرتبہ ہے، یعنی اللہ کے رسول (ﷺ)، جن کے متعلق اندیشہ تھا کہ دشمن مکر کریں گے، تو اللہ تعالیٰ نے جو صاحبِ فضل ہے انہیں اس مکر سے نجات دے دی، اللہ کے رسول ﷺ تو غار میں مکمل امن کے ساتھ رہے جہاں اللہ کی حفاظت اور پردہ ان کے ساتھ تھا، جبکہ میں ساری رات دشمنوں کی نگرانی کرتا رہا اور وہ میری موت کی تمنا کر رہے تھے، حالانکہ میں نے اپنے نفس کو قتل ہونے اور قید ہونے کے لیے بالکل تیار کر لیا تھا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) یہ سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ عبید بن قنفذ اور علی بن حسین کے درمیان موجود راویوں کا ضعف اور خود عبید کی جہالت ہے۔ نیز یہ روایت "مرسل" بھی ہے۔