حدثنا إسماعيل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذر الحزامي، حدثنا حُسين بن زيد، عن شِهاب بن عبد ربّه، عن عمر بن علي، قال: مَشَيتُ مع محمد بن علي، فقال: أشهدُ أنَّ أبي حدثني، عن أبيه، عن علي: أنَّ الله ﷿ عَمَّر نَبيَّه ﷺ بمكةَ ثلاثَ عشرةَ سنة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفقت الروايات على هذه مع الروايات التي أخرجاها عن عبد الله بن عبّاس ﵄ (2)، فأما خبرُ أنسٍ ومعاوية (3)، وإن صحَّت أسانيدُها في عشر سنين، فليس عليها القولُ والعمل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4257 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ کو مکہ مکرمہ میں تیرہ سال کا عرصہ (قیام) عطا فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ روایت ان روایات کے مطابق ہے جو شیخین نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہیں، جہاں تک سیدنا انس اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کی دس سال والی روایات کا تعلق ہے تو اگرچہ ان کی اسناد صحیح ہیں لیکن علمی و عملی طور پر (جمہور کے نزدیک) ان پر اعتماد نہیں کیا گیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4303
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4303] [ترقيم الشركة 4280] [ترقيم العلميه 4257]
أخبرنا القاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، حدثنا عيسى بن عُبيد الكِنْدي، عن غَيلان بن عبد الله العامِري، عن أبي زُرْعة بن عمرو، عن جَرير (1)، أنَّ النبي قال: "إِنَّ الله ﷿ أوحَى إليَّ: أيَّ هؤلاءِ البلادِ الثلاثِ نزلْتَ، فهي دار هِجْرتِك: المدينةِ، أو البحرَينِ، أو قِنَّسْرِينَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4258 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نے میری طرف وحی فرمائی کہ (ہجرت کے لیے) ان تین شہروں میں سے آپ جس میں بھی قیام فرمائیں گے وہی آپ کی ہجرت گاہ قرار پائے گی: مدینہ، یا بحرین، یا قنسرین۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4304
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4304] [ترقيم الشركة 4281] [ترقيم العلميه 4258]
أخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا جَرير، عن قابُوس بن أبي ظَبْيان، عن أبيه، عن ابن عبّاس، قال: كان رسولُ الله ﷺ بمكةَ، فأُمِر بالهجرة، وأُنزل عليه: ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [الإسراء: 80] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4259 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں مقیم تھے جب آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور آپ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [الإسراء: 80] ”اور آپ دعا کیجیے کہ اے میرے رب! مجھے جہاں بھی داخل فرما سچائی کے ساتھ داخل فرما اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور مجھے اپنی جناب سے ایسا غلبہ و اقتدار عطا فرما جس کے ساتھ تیری نصرت ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4305
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4305] [ترقيم الشركة 4282] [ترقيم العلميه 4259]
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا حسين بن محمد المَرْوَرُّوذي، حدثنا شيبان بن عبد الرحمن، عن قَتَادة: قوله: {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ} فأخرجه الله من مكة إلى الهجرة بالمدينة مُخرَجَ صِدْقٍ، وأدخله المدينة مُدخَلَ صِدْقٍ، قال: ونبيُّ الله صلى الله عليه وسلم قد عَلِم أنه لا طاقةَ له بهذا الأمر إلا بُسلطان، فسأل {سُلْطَانًا نَصِيرًا} لكتابِ الله وحُدودِ الله ولفرائض الله، ولإقامة كتاب الله، وإنَّ السُّلطان عِزةٌ من الله جعلها بين أظهُر عِبادِه، لولا ذلك لأغارَ بعضُهم على بعضٍ، وأكلَ شديدُهم ضعيفَهم(2).
حافظ طلحہ بابر
قتادہ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ﴾ کے متعلق مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے لیے نکالا تو وہ سچائی کے ساتھ نکلنا تھا اور مدینہ میں داخل کیا تو وہ سچائی کے ساتھ داخل ہونا تھا، انہوں نے کہا: اللہ کے نبی ﷺ کو یہ خوب معلوم تھا کہ آپ میں اس عظیم مشن کی تکمیل کی طاقت تبھی پیدا ہوگی جب آپ کو سیاسی قوت و اقتدار حاصل ہو، چنانچہ آپ نے اللہ کی کتاب، اس کی حدود، اس کے فرائض اور احکامِ الہیہ کی اقامت کے لیے ”سلطان نصیر“ (مددگار قوت) کی دعا کی، اور حقیقت یہ ہے کہ اقتدار اللہ کی طرف سے عطا کردہ وہ عزت ہے جسے اس نے اپنے بندوں کے درمیان نظم و ضبط کے لیے رکھا ہے، اگر یہ (خوفِ سلطانی) نہ ہوتا تو لوگ ایک دوسرے پر غارت گری کرتے اور طاقتور کمزور کو ہضم کر جاتا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4306
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4306] [ترقيم الشركة 4283]
أخبرنا الأستاذ أبو الوليد وأبو بكر بن عبد الله، قالا: أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو موسى الأنصاري، حدثنا سعد بن سعيد، حدثني أخي، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "اللهمّ إنك أخرجْتَني من أحبِّ البلاد إليَّ، فأسكِنّي أحبَّ البلادِ إليك"، فأسكنه اللهُ المدينةَ(1).
هذا حديث رواته مَدنيُّون من بيت أبي سعيد المَقْبُري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4261 - لكنه موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ التجا کی: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَخْرَجْتَنِي مِنْ أَحَبِّ الْبِلَادِ إِلَيَّ، فَأَسْكِنِّي أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو نے مجھے اس شہر سے نکالا ہے جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا، اب مجھے اس شہر میں مستقل سکونت عطا فرما جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہو“، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدینہ منورہ میں بسا دیا۔
اس حدیث کے تمام راوی مدنی ہیں اور ان کا تعلق ابوسعید مقبری کے خاندان سے ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4307
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4307] [ترقيم الشركة 4284] [ترقيم العلميه 4261]