حدیث نمبر: 4306
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا حسين بن محمد المَرْوَرُّوذي، حدثنا شيبان بن عبد الرحمن، عن قَتَادة: قوله: {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ} فأخرجه الله من مكة إلى الهجرة بالمدينة مُخرَجَ صِدْقٍ، وأدخله المدينة مُدخَلَ صِدْقٍ، قال: ونبيُّ الله صلى الله عليه وسلم قد عَلِم أنه لا طاقةَ له بهذا الأمر إلا بُسلطان، فسأل {سُلْطَانًا نَصِيرًا} لكتابِ الله وحُدودِ الله ولفرائض الله، ولإقامة كتاب الله، وإنَّ السُّلطان عِزةٌ من الله جعلها بين أظهُر عِبادِه، لولا ذلك لأغارَ بعضُهم على بعضٍ، وأكلَ شديدُهم ضعيفَهم(2).
حافظ طلحہ بابر

قتادہ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ﴾ کے متعلق مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے لیے نکالا تو وہ سچائی کے ساتھ نکلنا تھا اور مدینہ میں داخل کیا تو وہ سچائی کے ساتھ داخل ہونا تھا، انہوں نے کہا: اللہ کے نبی ﷺ کو یہ خوب معلوم تھا کہ آپ میں اس عظیم مشن کی تکمیل کی طاقت تبھی پیدا ہوگی جب آپ کو سیاسی قوت و اقتدار حاصل ہو، چنانچہ آپ نے اللہ کی کتاب، اس کی حدود، اس کے فرائض اور احکامِ الہیہ کی اقامت کے لیے ”سلطان نصیر“ (مددگار قوت) کی دعا کی، اور حقیقت یہ ہے کہ اقتدار اللہ کی طرف سے عطا کردہ وہ عزت ہے جسے اس نے اپنے بندوں کے درمیان نظم و ضبط کے لیے رکھا ہے، اگر یہ (خوفِ سلطانی) نہ ہوتا تو لوگ ایک دوسرے پر غارت گری کرتے اور طاقتور کمزور کو ہضم کر جاتا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4306
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4306] [ترقيم الشركة 4283]