کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: رسول اللہ ﷺ کے حکم سے دو درختوں کا آپس میں مل جانا
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن يعلى بن مُرّة، عن أبيه، قال: سافرتُ مع رسول الله ﷺ فرأيتُ منه شيئًا عجبًا؛ نزلْنا منزلًا فقال: "انطلِقْ إلى هاتَين الشجرتَين، فقل: إنَّ رسول الله ﷺ يقولُ لكما أن تَجتَمِعا" فانطلقتُ فقلتُ لهما ذلك، فانتَزَعَتْ كلُّ واحدةٍ منهما من أصلِها، فمَرَّت كلُّ واحدةٍ إلى صاحبتِها فالْتقتا جميعًا، فقضى رسولُ الله ﷺ حاجتَه من ورائهما، ثم قال: "انطلِقْ، فقُل لهما لِتعُودَ كلُّ واحدةٍ إلى مكانها" فأتيتُهما فقلتُ ذلك لهما، فعادَتْ كلُّ واحدةٍ إلى مكانها. وأتتْه امرأةٌ فقالت: إنَّ ابني هذا به لَمَمٌ منذ سبع سنين يأخذُه كلَّ يومٍ مرتَين، فقال رسول الله ﷺ: "أذْنِيهِ" فأدنَتْه منه، فتَفَلَ في فِيْهِ، وقال: "اخرُجْ عدوَّ الله أنا رسولُ الله" ثم قال لها رسولُ الله ﷺ: "إذا رَجَعْنا فأعلِمِينا ما صنَعَ"، فلما رجعَ رسولُ الله ﷺ استقبَلَتْه ومعها كَبْشانِ وأَقِطٌ وسَمْنٌ، فقال لى رسولُ الله ﷺ: "خُذْ هذا الكبشَ فاتَّخِذْ منه ما أردتَ"، فقالت: والذي أكرمك ما رأينا به شيئًا منذُ فارقَتَنا. ثم أتاهُ بَعيرٌ فقام بين يَدَيه فرأى عينَيه تدمعان، فبعثَ إلى أصحابه، فقال: "ما لِبَعيرِكُم هذا يَشكُوكم؟ " فقالوا: كنا نعملُ عليه، فلما كَبِرَ وذهَبَ عَمَلُه، تواعَدْنا عليه لِنَنحَرَه غدًا، فقال رسول الله ﷺ: "لا تَنحَرُوه واجعَلُوه في الإبلِ يكونُ معها" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقةِ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4232 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
یعلیٰ بن مرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا تو میں نے آپ ﷺ سے ایک نہایت عجیب معاملہ دیکھا؛ ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دو درختوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم دونوں آپس میں مل جاؤ“، میں گیا اور انہیں یہ بات کہی، تو ان میں سے ہر ایک اپنی جڑ سے اکھڑ گیا اور ایک دوسرے کی طرف چل پڑے یہاں تک کہ دونوں آپس میں مل گئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور ان سے کہو کہ ہر ایک اپنی جگہ واپس چلا جائے“، میں نے ان کے پاس جا کر یہ بات کہی تو ہر ایک اپنی جگہ واپس چلا گیا۔ پھر آپ ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: میرا یہ بیٹا ہے جسے سات سال سے جنون (مرگی) کا دورہ پڑتا ہے اور اسے ہر روز دو بار دورہ آتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے قریب کرو“، اس نے اسے قریب کیا تو آپ ﷺ نے اس کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور فرمایا: «اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ» ”اے اللہ کے دشمن نکل جا، میں اللہ کا رسول ہوں“، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس عورت سے فرمایا: ”جب ہم واپس آئیں تو ہمیں بتانا کہ اس نے کیا کیا“، جب رسول اللہ ﷺ واپس لوٹے تو وہ عورت آپ سے ملی، اس کے ساتھ دو مینڈھے، کچھ پنیر اور گھی تھا، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”یہ مینڈھا پکڑ لو اور اس سے جو تم چاہو تیار کر لو“، اس عورت نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت بخشی! جب سے آپ ہم سے جدا ہوئے ہیں ہم نے اس (بچے) میں کوئی بیماری نہیں دیکھی۔ پھر آپ ﷺ کے پاس ایک اونٹ آیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، آپ ﷺ نے اس کے مالکوں کو بلایا اور فرمایا: ”تمہارا یہ اونٹ تمہاری کیا شکایت کر رہا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم اس پر کام لیتے تھے، اب جب یہ بوڑھا ہو گیا اور اس کی کام کرنے کی سکت ختم ہو گئی تو ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کل اسے ذبح کر دیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ذبح نہ کرو بلکہ اسے اونٹوں میں چھوڑ دو تاکہ یہ ان کے ساتھ رہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة / حدیث: 4278
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف من حديث يعلى بن مرة لاضطرابه
تخریج حدیث «ضعيف من حديث يعلى بن مرة لاضطرابه، وهذا إسناد منقطع، فقد جزم المزي في "تهذيب الكمال" 28/ 569 و 32/ 399، والذهبي في "تاريخ الإسلام" 2/ 552 بأنَّ المنهال بن عمرو روايته عن يعلى بن مُرة مرسَلَة، وأقرَّ الحافظ ابن حجر في "تهذيب التهذيب" المزيِّ فيما قاله. والحجة في ذلك ...» [ترقيم الرساله 4278] [ترقيم الشركة 4255] [ترقيم العلميه 4232]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو النعمان، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، قال: سمعت أبي يُحدِّث عن أبي العلاء يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير، عن سَمُرة بن جُندُب، أنه حدَّثَه: أنَّ قَصْعةً كانت عند رسولِ الله ﷺ، فجعلَ الناسُ يأكُلُون منها، فكلما شبعَ قومٌ جلسَ مكانَهم أُناسٌ آخَرون، قال: كذلك إلى صلاة الأُولى، فقال رجلٌ: إنها تُمَدُّ بشيءٍ، فقال سمرةُ: ما كانت تُمَدُّ إِلَّا مِن السماءِ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4233 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بڑا پیالہ تھا جس سے لوگ کھانا کھاتے تھے، جب ایک گروہ سیر ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرے لوگ بیٹھ جاتے، راوی کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ ظہر کی نماز کے وقت تک اسی طرح چلتا رہا، تو ایک شخص نے دریافت کیا کہ کیا اس پیالے کو نیچے سے کسی چیز کے ذریعے بڑھایا جا رہا تھا؟ تو سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے صرف آسمان سے ہی غیبی مدد دی جا رہی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة / حدیث: 4279
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح أبو النعمان: هو محمد بن الفضل السَّدُوسي
تخریج حدیث «إسناده صحيح أبو النعمان: هو محمد بن الفضل السَّدُوسي، وسليمان: هو ابن طَرْخان التيمي.» [ترقيم الرساله 4279] [ترقيم الشركة 4256] [ترقيم العلميه 4233]