حدیث نمبر: 4280
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى اللَّخْمي، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة، الأوزاعي، قال: حدثني المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطب المَخْزُومي، قال: حدثني عبد الرحمن بن أبي عَمْرة الأنصاري، حدثني أبي، قال: كنا مع رسول الله ﷺ في غَزوةٍ، فأصاب الناسَ مَخْمَصَةٌ، فاستأذنَ الناسُ رسولَ الله ﷺ في نَحْرِ بعض ظُهورِهم، وقالوا: يُبْلِغُنا اللهُ بهم، فلما رأى عمرُ بن الخطاب رسولَ الله ﷺ قد هَمَّ بأن يأذَنَ لهم في نَحْرِ بعض ظُهورِهم (1)، قال: يا رسول الله، كيف بنا إذا نحنُ لَقِينا العَدُوَّ غدًا جياعًا رجالًا، ولكن إن رأيتَ يا رسولَ الله أن تدعُوَ الناسَ ببقايا أزْوادِهم، فجعلَ الناسُ يَجِيئون بالحَفْنة من الطعام وفوقَ ذلك، فكان أعلاهُم مَن جاء بصاعِ تمر، فجمَعَها، ثم قام فدعا بما شاء اللهُ أن يَدعُوَ، ثم دعا الجيشَ بأوعيتِهِم، ثم أمَرَهُم أن يَحتَثُوا (2) ما بَقِي من الجيش، فما تركُوا وعاءً إلّا ملؤوهُ وبقي مثلُه، فَضَحِكَ رسولُ الله ﷺ حتى بَدَتْ نَواحِدُه، فقال: "أشهدُ أن لا إله إلّا الله، وأشهدُ أني رسولُ اللهِ، لا يَلْقَى الله عبدٌ مؤمنٌ بها إِلَّا حُجِبَ عن النار" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4234 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے کہ لوگوں کو سخت فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑا، تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی بعض سواریوں کو ذبح کرنے کی اجازت مانگی اور کہا کہ اس طرح اللہ ہمیں منزل تک پہنچا دے گا، جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں سواریاں ذبح کرنے کی اجازت دینے کا ارادہ فرما لیا ہے، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارا کیا حال ہوگا جب ہم کل دشمن سے اس حال میں ملیں گے کہ ہم بھوکے اور پیادہ ہوں گے؟ لیکن اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب خیال فرمائیں تو لوگوں کو ان کے پاس موجود بچے کھچے زادِ راہ کے ساتھ بلائیں، چنانچہ لوگ مٹھی بھر غلہ یا اس سے کچھ زیادہ لانے لگے، ان میں سب سے زیادہ لانے والا ایک صاع کھجور لے کر آیا، آپ ﷺ نے ان سب کو جمع کیا، پھر کھڑے ہو کر جو اللہ نے چاہا وہ دعا مانگی، پھر پورے لشکر کو اپنے برتنوں کے ساتھ بلایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس میں سے بھر لیں، پس انہوں نے پورے لشکر کا کوئی ایسا برتن نہیں چھوڑا جسے بھر نہ لیا ہو اور پھر بھی اتنا ہی کھانا باقی بچ گیا، تب رسول اللہ ﷺ اس قدر مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہو گئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جو بھی مومن بندہ ان دو شہادتوں کے ساتھ اللہ سے ملے گا، اسے جہنم کی آگ سے بچا لیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة / حدیث: 4280
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، أحمد بن عيسى اللَّخمي» [ترقيم الرساله 4280] [ترقيم الشركة 4257] [ترقيم العلميه 4234]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز): ظهرهم.
نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ز) میں یہ لفظ "ظھرھم" ہے۔
(2) تحرف في النسخ الخطية إلى: يحتشوا، أو يحتسوا.
نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "یحتشوا" یا "یحتسوا" ہوگیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف جدًّا، أحمد بن عيسى اللَّخمي - وهو الخشاب التِّنِّيسي - ضعيف جدًّا وكذّبه بعضهم، لكن صحَّ الحديثُ من غير طريقه عن الأوزاعي.
درجۂ حدیث: (3) یہ سند انتہائی ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: احمد بن عیسیٰ اللخمی (جو کہ خشاب تنیسی ہیں) "ضعیف جداً" ہیں اور بعض نے ان کی تکذیب کی ہے۔
اہم نکتہ: لیکن یہ حدیث اوزاعی سے اس (ضعیف) طریق کے علاوہ دیگر طرق سے صحیح ثابت ہے۔
فقد أخرجه أحمد 24/ (15449)، والنسائي (8742) و (10912) من طريق عبد الله بن المبارك، وابن حبان (221) من طريق الوليد بن مسلم ومحمد بن شعيب، ثلاثتهم عن الأوزاعي، بهذا الإسناد. ويشهد له حديث أبي سعيد الخُدْري أو أبي هريرة - على الشك - عند أحمد 17/ (11080) ومسلم (27)، وابن حبان (6530) بالقصة نفسها.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (24/ 15449) اور نسائی (8742 اور 10912) نے عبداللہ بن مبارک کے طریق سے؛ اور ابن حبان (221) نے ولید بن مسلم اور محمد بن شعیب کے طریق سے تخریج کیا ہے۔ یہ تینوں اسے اوزاعی سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
متابعات و شواہد: اس کی تائید (شاہد) ابو سعید خدری یا ابو ہریرہ (راوی کو شک ہے) کی حدیث سے ہوتی ہے جو اسی قصے کے ساتھ مسند احمد (17/ 11080)، صحیح مسلم (27) اور ابن حبان (6530) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4280 سے ماخوذ ہے۔