المستدرك على الصحيحين
كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة— رسول اللہ ﷺ کی ان نشانیوں (معجزات) کا ذکر جو دلائلِ نبوت میں سے ہیں۔
اجْتِمَاعُ الشَّجَرَتَيْنِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ باب: رسول اللہ ﷺ کے حکم سے دو درختوں کا آپس میں مل جانا
حدیث نمبر: 4279
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو النعمان، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، قال: سمعت أبي يُحدِّث عن أبي العلاء يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير، عن سَمُرة بن جُندُب، أنه حدَّثَه: أنَّ قَصْعةً كانت عند رسولِ الله ﷺ، فجعلَ الناسُ يأكُلُون منها، فكلما شبعَ قومٌ جلسَ مكانَهم أُناسٌ آخَرون، قال: كذلك إلى صلاة الأُولى، فقال رجلٌ: إنها تُمَدُّ بشيءٍ، فقال سمرةُ: ما كانت تُمَدُّ إِلَّا مِن السماءِ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4233 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بڑا پیالہ تھا جس سے لوگ کھانا کھاتے تھے، جب ایک گروہ سیر ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرے لوگ بیٹھ جاتے، راوی کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ ظہر کی نماز کے وقت تک اسی طرح چلتا رہا، تو ایک شخص نے دریافت کیا کہ کیا اس پیالے کو نیچے سے کسی چیز کے ذریعے بڑھایا جا رہا تھا؟ تو سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے صرف آسمان سے ہی غیبی مدد دی جا رہی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح أبو النعمان: هو محمد بن الفضل السَّدُوسي، وسليمان: هو ابن طَرْخان التيمي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (سند میں موجود) ابو النعمان سے مراد "محمد بن فضل السدوسی" ہیں اور سلیمان سے مراد "ابن طرخان التیمی" ہیں۔
وأخرجه النسائي (6876) عن محمد بن عبد الأعلى، عن المعتمر بن سليمان بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 33/ (20196)، والترمذي (3625)، والنسائي (6707)، وابن حبان (6529) من طريق يزيد بن هارون، وأحمد (20135) عن علي بن عاصم، كلاهما عن سليمان التيمي، به. وقال الترمذي حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (6876) نے محمد بن عبدالاعلیٰ عن معتمر بن سلیمان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد (33/ 20196)، ترمذی (3625)، نسائی (6707) اور ابن حبان (6529) نے یزید بن ہارون کے طریق سے؛ اور احمد (20135) نے علی بن عاصم کے طریق سے تخریج کیا ہے۔ یہ دونوں (یزید اور علی) اسے سلیمان التیمی سے روایت کرتے ہیں۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (سند میں موجود) ابو النعمان سے مراد "محمد بن فضل السدوسی" ہیں اور سلیمان سے مراد "ابن طرخان التیمی" ہیں۔
وأخرجه النسائي (6876) عن محمد بن عبد الأعلى، عن المعتمر بن سليمان بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 33/ (20196)، والترمذي (3625)، والنسائي (6707)، وابن حبان (6529) من طريق يزيد بن هارون، وأحمد (20135) عن علي بن عاصم، كلاهما عن سليمان التيمي، به. وقال الترمذي حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (6876) نے محمد بن عبدالاعلیٰ عن معتمر بن سلیمان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد (33/ 20196)، ترمذی (3625)، نسائی (6707) اور ابن حبان (6529) نے یزید بن ہارون کے طریق سے؛ اور احمد (20135) نے علی بن عاصم کے طریق سے تخریج کیا ہے۔ یہ دونوں (یزید اور علی) اسے سلیمان التیمی سے روایت کرتے ہیں۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4279 سے ماخوذ ہے۔