حدیث نمبر: 4241
أخبرني أبو سعيد الأحمَسي، حدثنا الحُسين بن حُميد، حدثنا أحمد بن مَنِيع، حدثنا عبّاد بن العَوّام، حدثنا حجّاج، عن سِماك بن حَرْب، عن جابر بن سَمُرة، قال: كان رسول الله ﷺ لا يضحكُ إلَّا تَبسُّمًا، وكان في ساقِه حُمُوشةٌ، وكنتَ إِذا نَظَرْتَ إليه قُلتَ: أَكْحلُ العَينَين، وليس بأكْحَلَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4196 - حجاج لين الحديث
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (کھلکھلا کر) نہیں ہنستے تھے بلکہ آپ کا ہنسنا محض تبسم (مسکرانا) ہوتا تھا، آپ کی پنڈلیوں میں قدرے دبلا پن تھا، اور جب آپ انہیں دیکھتے تو (آنکھوں کی فطری سیاہی اور چمک کی وجہ سے) کہتے کہ آپ کی آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا ہے حالانکہ وہ سرمہ لگی ہوئی نہیں ہوتی تھیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 4241
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، حجاج» [ترقيم الرساله 4241] [ترقيم الشركة 4218] [ترقيم العلميه 4196]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف، حجاج - وهو ابن أرطاة - فيه لين، وهو مدلِّس وقد عنعنه.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حجاج بن ارطاہ نامی راوی میں کمزوری (لین) پائی جاتی ہے، مزید یہ کہ وہ "مدلس" ہیں اور یہاں "عن" سے روایت کر رہے ہیں (سماع کی صراحت نہیں ہے)۔
وأخرجه الترمذي (3645) عن أحمد بن منيع بهذا الإسناد. وقال: حسن غريب.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3645) نے احمد بن منیع کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اسے "حسن غریب" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 34/ (21004) عن سريج بن النعمان، عن عباد بن العوّام، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "المسند" 34/ (21004) میں سُریج بن النعمان کے واسطے سے عباد بن العوام سے روایت کیا ہے۔
والمعروف في حديث جابر بن سمرة ذكر قلة لحم العَقِبَ فقط دون ذكر الساق، كما في بعض روايات الحديث الذي قبل هذا، حيث قال جابر: كان رسول الله ﷺ منهُوس العَقِب، وفَسَّره سِماكٌ راويه بأنه قليل لحم العَقِب.
اہم نکتہ: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں معروف بات صرف ایڑیوں کے کم گوشت کا ذکر ہے، پنڈلیوں کا ذکر نہیں ہے، جیسا کہ ماقبل کی روایات میں گزرا کہ آپ ﷺ "منہوس العقب" تھے، اور راوی سماک بن حرب نے اس کی تفسیر "ایڑی کے کم گوشت" سے کی ہے۔
ويشهد لقوله: لا يضحك إلّا تبسُّمًا، حديث عائشة عند البخاري (4824)، ومسلم (899) أنها قالت: ما رأيت رسول الله ﷺ مستجمعًا ضاحكًا حتى أرى منه لهواتهِ، إنما كان يتبسَّم.
متابعات و شواہد: آپ ﷺ کے صرف تبسم فرمانے کی تائید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے ہوتی ہے جو صحیح بخاری (4824) اور صحیح مسلم (899) میں ہے کہ: "میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آنے لگے، آپ ﷺ صرف تبسم فرماتے تھے"۔
وحديث عبد الله بن الحارث عند الترمذي (3642) وصحَّحه.
حوالہ / مصدر: اس کی تائید حضرت عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جو امام ترمذی (3642) نے روایت کی اور اسے صحیح قرار دیا۔
وقوله: "أكحل العينين وليس بأكحل" فهو إنما يكون بسبب كثرة الشعر النابت على حرفي الجَفْن، ويشهد له حديث أبي هريرة في وصفته ﷺ عند أحمد 14 (8352) وغيره: أنه ﷺ كان أهدب أشفار العينين. وإسناده حسن.
درجۂ حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ تائیدی روایت "حسن" سند کے ساتھ مروی ہے۔
اہم نکتہ: قول "آپ ﷺ سرمگیں آنکھوں والے تھے حالانکہ آپ نے سرمہ نہیں لگایا ہوتا تھا" کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی پلکوں کے کناروں پر بال اتنے گھنے تھے کہ سرمہ لگا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ اس کی تائید امام احمد 14/ (8352) کی روایت سے ہوتی ہے کہ آپ ﷺ "أہدب أشفار العينين" (لمبی پلکوں والے) تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4241 سے ماخوذ ہے۔