المستدرك على الصحيحين
ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم— سید المرسلین حضرت محمد ﷺ اور آپ کی آل کے حالات و واقعات کا ذکر
زِيَارَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ باب: رسول اللہ ﷺ کا اپنی والدہ کے مزار کی زیارت کرنا
حدیث نمبر: 4237
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يوسف بن عبد الله الخُوارزمي ببيت المَقدِس، حدثنا أبو سعيد يحيى بن سليمان الجُعفي، حدثنا يحيى بن يَمَان، حدثنا سفيان، عن علقمة بن مَرْثَد، عن سليمان بن بُريدة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ زار قَبْرَ أُمِّه في ألف مُقنَّعٍ، فما رُئِيَ أكثرُ باكِيًا من ذلك اليوم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما أخرج مسلم وحدَه حديث مُحارِب بن دِثار، عن ابن بُريدة، عن أبيه: "استأذنتُ ربِّي في الاستغفارِ لأُمِّي فلم يأْذَنْ لي" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4192 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ہزار نقاب پوشوں (سواروں) کے ساتھ اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی، تو اس دن سے زیادہ کسی کو روتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے تنہا محارب بن دثار کی ابن بریدہ سے مروی یہ روایت نقل کی ہے: ”میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لیے بخشش طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف بهذا اللفظ كما تقدَّم بيانه برقم (1405) فقد روي هناك من طريق أخرى عن يحيى بن يمان، وذكر هناك لفظه الصحيح عن بُريدة.
درجۂ حدیث: ان الفاظ کے ساتھ یہ سند ضعیف ہے جیسا کہ حدیث نمبر (1405) کے تحت گزر چکا۔
نوٹ / توضیح: وہاں اسے یحییٰ بن یمان کے دوسرے طریق سے روایت کیا گیا ہے اور وہاں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے اس کے صحیح الفاظ ذکر کیے گئے ہیں۔
(2) كذا المصنف هنا بأنَّ مسلمًا أخرجه من هذه الطريق، مع أنه جزم جزم عند الحديث المتقدم أنّ مسلمًا لم يخرجه من الطريق المذكورة، وهو الصحيح، وإنما أخرج مسلم في استئذانه ﷺ في الاستغفار لأمِّه حديثَ أبي هريرة برقم (976).
فنی نکتہ / علّت: مصنف نے یہاں ذکر کیا ہے کہ امام مسلم نے اس طریق سے روایت کیا ہے، حالانکہ گزشتہ حدیث میں انہوں نے یقین کے ساتھ کہا تھا کہ مسلم نے اس طریق سے روایت نہیں کیا، اور یہی بات صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: امام مسلم نے آپ ﷺ کا اپنی والدہ کے لیے استغفار کی اجازت مانگنے والی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (976) نمبر پر روایت کی ہے۔
درجۂ حدیث: ان الفاظ کے ساتھ یہ سند ضعیف ہے جیسا کہ حدیث نمبر (1405) کے تحت گزر چکا۔
نوٹ / توضیح: وہاں اسے یحییٰ بن یمان کے دوسرے طریق سے روایت کیا گیا ہے اور وہاں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے اس کے صحیح الفاظ ذکر کیے گئے ہیں۔
(2) كذا المصنف هنا بأنَّ مسلمًا أخرجه من هذه الطريق، مع أنه جزم جزم عند الحديث المتقدم أنّ مسلمًا لم يخرجه من الطريق المذكورة، وهو الصحيح، وإنما أخرج مسلم في استئذانه ﷺ في الاستغفار لأمِّه حديثَ أبي هريرة برقم (976).
فنی نکتہ / علّت: مصنف نے یہاں ذکر کیا ہے کہ امام مسلم نے اس طریق سے روایت کیا ہے، حالانکہ گزشتہ حدیث میں انہوں نے یقین کے ساتھ کہا تھا کہ مسلم نے اس طریق سے روایت نہیں کیا، اور یہی بات صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: امام مسلم نے آپ ﷺ کا اپنی والدہ کے لیے استغفار کی اجازت مانگنے والی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (976) نمبر پر روایت کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4237 سے ماخوذ ہے۔