حدثنا أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع، حدثنا موسى بن إسماعيل وهدبة بن خالد، قالا: حدثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مهران، عن ابن عبّاس، قال: قال رسول الله ﷺ: "بَعَث الله نوحًا لأربعين سنة، ولَبِثَ في قومه ألف سنة إلا خمسين عامًا يدعُوهم، وعاشَ بعد الطوفان ستين سنة، حتى كثر الناسُ وفَشَوْا" (1). قد اتفق الشيخان على حديث أبي هريرة (2) وأنس (3) عن النبي ﷺ في حديث الشَّفاعة، فيأتون نوحًا فيقولون: أنت أول رسولٍ أُرسل إلى الأرض.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4005 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4005 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا، اور وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال (ایک ہزار سال میں پچاس سال کم) تک ٹھہرے رہے اور انہیں دین کی دعوت دیتے رہے، اور وہ طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے، یہاں تک کہ لوگ بہت زیادہ ہو گئے اور پھیل گئے۔“
شیخین کا سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہما کی نبی کریم ﷺ سے مروی حدیثِ شفاعت پر اتفاق ہے، جس میں ہے کہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ زمین کی طرف بھیجے جانے والے سب سے پہلے رسول ہیں۔
شیخین کا سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہما کی نبی کریم ﷺ سے مروی حدیثِ شفاعت پر اتفاق ہے، جس میں ہے کہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ زمین کی طرف بھیجے جانے والے سب سے پہلے رسول ہیں۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتّاب العبدي، حدثنا جعفر بن أبي عثمان الطيالسي، حدثنا عيّاش بن الوليد الرَّقام، حدثنا عبد الأعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن عمران بن حصين، وعن (1) سمرة بن جندب، أَنَّ النبي ﷺ قال: "ولَدُ نوحٍ ثلاثة: سام، وحام، ويافتُ أبو الرُّوم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4006 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4006 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے تھے: سام، حام اور یافث جو رومیوں کا باپ (جد امجد) ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔