کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنے رب سے کلمات ملنا اور اللہ کا ان کی توبہ قبول کرنا
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان، حدثنا الحسن بن عطية، حدثنا الحسن بن صالح، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس: ﴿فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ﴾ [البقرة: 37]، قال: أي ربِّ، ألم تخلقني بيدك؟ قال: بلى، قال: أي ربِّ، ألم تَنفُخُ فِي مِن رُوحك؟ قال: بلى، قال: أي ربِّ، ألم تُسكِنَّي جَنتك؟ قال: بلى، قال: أي ربِّ، ألم تسبق رحمتك غضبك؟ قال: بلى، قال: أرأيتَ إن تبتُ وأصلحتُ، أَراجعي أنتَ إلى الجنة؟ قال: بلى، قال: فهو قوله: ﴿فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ﴾ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4002 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4002 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمانِ الٰہی ﴿فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ﴾ [سورة البقرة: 37] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: آدم علیہ السلام نے عرض کیا: ”اے میرے رب! کیا تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا؟“ اللہ نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ عرض کیا: ”اے میرے رب! کیا تو نے مجھ میں اپنی روح نہیں پھونکی؟“ اللہ نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ عرض کیا: ”اے میرے رب! کیا تو نے مجھے اپنی جنت میں نہیں بسایا؟“ اللہ نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ عرض کیا: ”اے میرے رب! کیا تیری رحمت تیرے غضب پر سبقت نہیں لے گئی؟“ اللہ نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ آدم علیہ السلام نے عرض کیا: ”بھلا بتا تو سہی، اگر میں توبہ کر لوں اور اصلاح کر لوں، تو کیا تو مجھے واپس جنت میں لوٹا دے گا؟“ اللہ نے فرمایا: ”ہاں۔“ پس یہی مطلب ہے اس کے فرمان کا: ﴿فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ﴾ (پس سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے چند کلمات)۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أحمد بن عثمان بن يحيى الأَدَمي المقرئ ببغداد، حدثنا أبو قلابة، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عمر بن إبراهيم، عن قتادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جُندب، عن النبي ﷺ، قال: "كانت حواء لا يَعيشُ لها ولدٌ، فَنَذَرَت: لئن عاشَ لها ولدٌ لتُسَمِّيهِ عبد الحارث، فعاش لها ولدٌ فسمته عبد الحارث، وإنما كان ذلك عن وحي الشيطان" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4003 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4003 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”حوا علیہا السلام کا کوئی بچہ زندہ نہیں بچتا تھا، تو انہوں نے منت مانی کہ اگر ان کا کوئی بچہ زندہ بچ گیا تو وہ اس کا نام عبدالحارث (حارث کا بندہ، اور حارث شیطان کا نام تھا) رکھیں گی، پس ان کا ایک بچہ زندہ بچ گیا تو انہوں نے اس کا نام عبدالحارث رکھ دیا، اور یہ صرف شیطان کے وسوسے (اور بہکاوے) کی وجہ سے تھا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت البناني، عن الحسن، عن عُتَي بن ضَمْرة، عن أبي بن كعب، عن النبي ﷺ، قال: "لما تُوفّي آدم غسلته الملائكة بالماء وترًا وألْحَدُوا له، وقالوا: هذه سنة آدم في ولده" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. [ذكر نوح النبي ﷺ] واختلفوا في نوح وإدريس، فقيل: إن إدريس قبله، وأكثر الصحابة على أن نوحًا قبل إدريس، صلى الله عليهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4004 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. [ذكر نوح النبي ﷺ] واختلفوا في نوح وإدريس، فقيل: إن إدريس قبله، وأكثر الصحابة على أن نوحًا قبل إدريس، صلى الله عليهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4004 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب آدم علیہ السلام کی وفات ہوئی تو فرشتوں نے انہیں طاق مرتبہ (ایک، تین یا پانچ بار) پانی سے غسل دیا، اور ان کے لیے بغلی قبر (لحد) بنائی، اور فرمایا: آدم علیہ السلام کی ان کی اولاد کے لیے یہی سنت ہے۔“
سیدنا نوح علیہ السلام کا ذکر: علماء کا نوح اور ادریس علیہما السلام کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے کہ ادریس علیہ السلام ان سے پہلے گزرے ہیں، جبکہ اکثر صحابہ کرام اس بات پر ہیں کہ نوح علیہ السلام، ادریس علیہ السلام سے پہلے کے ہیں۔ دونوں پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
سیدنا نوح علیہ السلام کا ذکر: علماء کا نوح اور ادریس علیہما السلام کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے کہ ادریس علیہ السلام ان سے پہلے گزرے ہیں، جبکہ اکثر صحابہ کرام اس بات پر ہیں کہ نوح علیہ السلام، ادریس علیہ السلام سے پہلے کے ہیں۔ دونوں پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔