کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تفسیر سورہ الزلزلہ - سورہ "اذا زلزلت" کی فضیلت کا بیان
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ والحسن بن يعقوب قالا: حدَّثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدَّثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدَّثنا سعيد بن أبي أيوب، حدَّثنا عيّاش بن عبَّاس القِتْباني، عن عيسى بن هلال الصَّدَفي، عن عبد الله بن عمرو قال: أتى رجلٌ رسول الله ﷺ فقال: أقرئني يا رسول الله، فقال له رسول الله ﷺ: "اقرأ ثلاثًا من ذواتِ (الر) "، فقال الرجل كَبِرَت سنِّي، واشتدَّ قلبي، وغَلُظَ لساني، قال: "اقرأ ثلاثًا من ذواتِ (حم)، فقال مثلَ مَقالتِه الأولى، فقال: "اقرأ ثلاثًا من المسبِّحات"، فقال مثلَ مقالتِه، فقال الرجل: يا رسول الله، أقرئْني سورةً جامعةً، فأقرأه رسول الله ﷺ ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ حتى فَرَغَ منها، فقال الرجل: والَّذي بعثَك بالحقِّ لا أزيدُ عليها أبدًا. ثم أدبَرَ الرجل، فقال رسول الله ﷺ: "أَفْلَحَ الرُّوَيجِلُ"، ثم ذَكَر ما يقيمه (1) (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3964 - بل صحيح
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3964 - بل صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے قرآن پڑھائیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”(الر) والی سورتوں میں سے تین سورتیں پڑھ لو۔“ اس شخص نے کہا: میری عمر زیادہ ہو گئی ہے، میرا دل سخت ہو گیا ہے، اور میری زبان موٹی ہو گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر (حم) والی سورتوں میں سے تین سورتیں پڑھ لو۔“ اس نے پھر وہی بات دہرائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر مسبحات (سبح اور یسبح سے شروع ہونے والی سورتوں) میں سے تین سورتیں پڑھ لو۔“ اس نے پھر وہی عذر پیش کیا، اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایک جامع سورت پڑھا دیجیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ پڑھائی، یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہوئے۔ اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں اس پر کبھی اضافہ نہیں کروں گا۔ پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ چھوٹا سا آدمی کامیاب ہو گیا۔“ پھر آپ ﷺ نے وہ اعمال ذکر کیے جو اسے قائم رکھیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا محمد بن صالح والحسن بن يعقوب، قالا: حدَّثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدَّثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدَّثنا سعيدٌ بن أبي أيوب، حدثني يحيى بن أبي سليمان، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قرأ رسول الله ﷺ هذه الآية: ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾، قال: "أتدرون ما أخبارُها؟ " قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال: "فإِنَّ أخبارَها أن تشهدَ على كلِّ عبدٍ وأَمَةٍ بما عَمِلَ على ظهرها أن تقول: عمل كذا في يوم كذا وكذا، فذلك أخبارُها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3965 - يحيى هذا منكر الحديث قاله البخاري
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3965 - يحيى هذا منكر الحديث قاله البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾ [سورة الزلزلة: 4] کی تلاوت فرمائی اور پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ یہ ہر اس بندے اور بندی کے خلاف گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر عمل کرتا رہا، یہ کہے گی کہ اس نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں عمل کیا تھا۔ پس یہی اس کی خبریں ہیں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار وأبو بكر الشافعي، قالا: حدَّثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حُسين، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن أبي أسماء الرَّحَبي قال: بَيْنا أبو بكر الصِّديق يَتغدَّى مع رسول الله ﷺ إذْ نَزَلت هذه الآية: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾، فأمسك أبو بكر وقال: يا رسول الله، أكلُّ ما عَمِلنا من سوءٍ رأيناه؟ فقال: "ما تَرونَ مما تكرهون، فذلك ما تُجزَونَ، يُؤخَّرُ الخيرُ لأهله في الآخرة" (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3966 - مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3966 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
ابو اسماء رحبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (کھانے سے ہاتھ) روک لیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم نے جو بھی برائی کی ہے، ہم اسے دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(دنیا میں) تمہیں جو تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیزیں پیش آتی ہیں، وہ انہی برائیوں کا بدلہ ہوتی ہیں، جبکہ بھلائی اور خیر کو اس کے حق داروں کے لیے آخرت کے واسطے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔“
اس کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔