کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تفسیر سورہ لم یکن (سورہ البینہ)
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدَّثنا أبو داود، حدَّثنا شُعبة، عن عاصم، عن زرٍّ، عن أبيِّ بن كعب: أنَّ النبي ﷺ قرأ عليه ﴿لَمْ يَكُنِ﴾، وقرأَ فيها: (إِنَّ ذاتَ الدِّينِ عندَ الله الحَنِيفيّةُ لا اليهوديةُ ولا النصرانيةُ ولا المجوسيةُ، ومن يَعمَلْ خيرًا فلن يُكفَرَه) (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3962 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے سامنے سورۃ ﴿لَمْ يَكُنِ﴾ کی تلاوت فرمائی، اور اس میں (ان الفاظ کی بھی) تلاوت فرمائی: ”بیشک اللہ کے نزدیک اصل دین حنیفیت (دین ابراہیمی) ہے، یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت نہیں ہے، اور جو کوئی بھلائی کرے گا تو اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 4006
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن.
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النجود. أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي، وزر: هو ابن حُبيش.» [ترقيم الرساله 4006] [ترقيم الشركة 3984] [ترقيم العلميه 3962]
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، حدَّثنا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن مُغيرة، قال: سمعتُ الفُضَيل بنَ عمرو يقول لأبي وائل شَقيق بن سَلَمة: أسمعتَ عبدَ الله بنَ مسعود: يقول: مَن قال: إني مؤمنٌ، فليقل: إني في الجنّة؟ فقال: نعم. فقال المغيرة: وقرأ أبو وائل شقيقُ بن سَلَمة: ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ﴾ حتى بلغ ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ إلى قوله: ﴿وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾، قرأها وهو يُعرِّض بالمُرجِئة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 99 - تفسير سورة (إذا زُلزلت) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3963 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
مغیرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے فضیل بن عمرو کو ابو وائل شقیق بن سلمہ سے یہ کہتے ہوئے سنا: کیا آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”جو شخص یہ کہے کہ میں (پکا) مومن ہوں، تو اسے (پھر یہ بھی دعویٰ) کہنا چاہیے کہ میں جنتی ہوں؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”ہاں۔“ مغیرہ کہتے ہیں: پھر ابو وائل شقیق بن سلمہ نے ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ﴾ کی تلاوت شروع کی، یہاں تک کہ وہ ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ سے لے کر ﴿وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾ [سورة البينة: 1-5] تک پہنچے، اور انہوں نے یہ تلاوت اس حال میں کی کہ وہ مرجئہ (گمراہ فرقے) پر طنز اور رد کر رہے تھے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 4007
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، ومغيرة: هو ابن مقسم الضبي.» [ترقيم الرساله 4007] [ترقيم الشركة 3985] [ترقيم العلميه 3963]