المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ وَالْعَادِيَاتِ باب: تفسیر سورہ والعادیات
أخبرنا محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدَّثنا سعيدٌ بن مسعود، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، حدَّثنا إسرائيل، أخبرني عبد الكريم الجَزَري، عن مجاهدٍ، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ قال: هي الخيلُ ﴿فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا﴾ قال: الرجلُ إِذا أَوْرَى زَنْدَه ﴿فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا﴾ قال: الخيلُ تصبِّحُ العدوَّ ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا﴾ قال: الترابُ ﴿فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا﴾ قال: العدوُّ ﴿إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ﴾ قال: الكَفُورُ (1). [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3967 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد گھوڑے ہیں۔“ اور ﴿فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا﴾ کے متعلق فرمایا: ”(اس سے مراد) وہ آدمی ہے جب وہ چقماق سے آگ نکالے۔“ اور ﴿فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا﴾ کے متعلق فرمایا: ”وہ گھوڑے جو صبح کے وقت دشمن پر حملہ کرتے ہیں۔“ اور ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا﴾ کے متعلق فرمایا: ”غبار اور مٹی (جو وہ اڑاتے ہیں)۔“ اور ﴿فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا﴾ کے متعلق فرمایا: ”دشمن (کی جماعت کے درمیان گھس جاتے ہیں)۔“ اور ﴿إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ﴾ کے متعلق فرمایا: ”(«كنود» سے مراد) انتہائی ناشکرا شخص ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأورده السيوطي في "الدر المنثور" 8/ 106 وزاد نسبته إلى عبد بن حميد.
حوالہ / مصدر: سیوطی نے "الدر المنثور" (8/106) میں اسے ذکر کیا ہے اور عبد بن حمید کی طرف نسبت کا اضافہ کیا ہے۔