المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الزَّلْزَلَةِ - فَضِيلَةُ سُورَةِ: {إِذَا زُلْزِلَتِ} باب: تفسیر سورہ الزلزلہ - سورہ "اذا زلزلت" کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4009
حدَّثنا محمد بن صالح والحسن بن يعقوب، قالا: حدَّثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدَّثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدَّثنا سعيدٌ بن أبي أيوب، حدثني يحيى بن أبي سليمان، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قرأ رسول الله ﷺ هذه الآية: ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾، قال: "أتدرون ما أخبارُها؟ " قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال: "فإِنَّ أخبارَها أن تشهدَ على كلِّ عبدٍ وأَمَةٍ بما عَمِلَ على ظهرها أن تقول: عمل كذا في يوم كذا وكذا، فذلك أخبارُها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3965 - يحيى هذا منكر الحديث قاله البخاريحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾ [سورة الزلزلة: 4] کی تلاوت فرمائی اور پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ یہ ہر اس بندے اور بندی کے خلاف گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر عمل کرتا رہا، یہ کہے گی کہ اس نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں عمل کیا تھا۔ پس یہی اس کی خبریں ہیں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف يحيى بن أبي سليمان. وقد سلف برقم (3049).
درجۂ حدیث: اس کی سند یحییٰ بن ابی سلیمان کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ یہ پہلے نمبر (3049) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند یحییٰ بن ابی سلیمان کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ یہ پہلے نمبر (3049) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4009 سے ماخوذ ہے۔