المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ ( قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا ) الْآيَةَ باب: آیت "قل لو كان البحر مداداً" (کہہ دیجیے اگر سمندر سیاہی بن جائے) کے شانِ نزول کا تذکرہ
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدَّثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا ابن أبي زائدة، عن داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: قالت قريشٌ لليهود: أعطُونا شيئًا نَسألَ عنه هذا الرجلَ، فقالوا: سَلُوه عن الرُّوح، فنزلت ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [الإسراء: 85]، قالوا: نحن لم نُؤْتَ من العلم إلا قليلًا، وقد أُوتينا التوراةَ فيها حكمُ الله، ومن أُوتِيَ التوراةَ فقد أوتيَ خيرًا كثيرًا، قال: فنَزَلت: ﴿قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا﴾ [الكهف:109] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 98 - تفسير سورة (لم يَكُن) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3961 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قریش نے یہودیوں سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی چیز بتاؤ جس کے بارے میں ہم اس شخص (نبی کریم ﷺ) سے سوال کریں۔ تو انہوں نے کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 85] یہودیوں نے (یہ سن کر) کہا: ہم تو ایسے نہیں کہ ہمیں تھوڑا علم دیا گیا ہو، ہمیں تو تورات دی گئی ہے جس میں اللہ کا حکم ہے، اور جسے تورات مل گئی اسے تو بہت بڑی بھلائی مل گئی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا﴾ [سورة الكهف: 109]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ سے مراد "نیشاپوری" اور ابن ابی زائدہ سے مراد "یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 4/ (2309)، والترمذي (3140)، والنسائي (11252)، وابن حبان (99) من طريقين عن ابن أبي زائدة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (4/2309)، ترمذی (3140)، نسائی (11252) اور ابن حبان (99) نے ابن ابی زائدہ سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ترمذی نے کہا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔