أخبرنا أبو العبَّاس قاسم بن القاسم السَّيّاري، حدَّثنا محمد بن موسى الباشَاني، حدَّثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدَّثنا الحسين بن واقد، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة في قوله ﷿: ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾ قال: هي الملائكةُ أُرسِلَت بالعُروف (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3886 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3886 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾ [سورة المرسلات: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو نیکی اور بھلائی کے احکامات دے کر بھیجے گئے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدَّثنا أحمد بن مِهْران، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، حدَّثنا إسرائيل، حدَّثنا سِمَاك بن حَرْب، عن خالد بن عَرعَرة قال: قام رجل إلى علي فقال: ما العاصفاتُ عَصْفًا؟ قال: الرِّياح (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3887 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3887 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
خالد بن عرعرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا ہوا اور پوچھا: «العاصفات عصفاً» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد تند و تیز ہوائیں ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر الشافعي، حدَّثنا إسحاق بن الحسن، حدَّثنا أبو حُذَيفة، حدَّثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس: سمعتُ ابنَ عبَّاس وسُئِل عن هذه الآية: (تَرْمِي بِشَرَرٍ كالقَصَرِ (1)) [المرسلات: 32]، قال: كنا في الجاهلية نَقصُر (2) ذراعين أو ثلاثةً، فنَرفعُه في الشتاء ونسمِّيه القَصَرَ. قال: وسمعتُ ابنَ عبَّاس وسُئِل عن ﴿جِمَالَتٌ صُفْرٌ﴾ [المرسلات: 33] قال: حِبالُ السُّفن يُجمَع بعضُها إلى بعض حتى تكون كأوساط الرِّجال (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه! 78 - تفسير (عمَّ يتساءلون) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3888 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه! 78 - تفسير (عمَّ يتساءلون) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3888 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے اس آیت ﴿تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصَرِ﴾ [سورة المرسلات: 32] کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہم زمانہ جاہلیت میں دو یا تین ہاتھ لمبی لکڑیوں کو اکٹھا کر کے ڈھیر لگاتے تھے اور سردیوں کے لیے اسے سنبھال کر رکھتے تھے، جسے ہم «القَصَرَ» کہتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بھی کہتے سنا جب ان سے ﴿جِمَالَتٌ صُفْرٌ﴾ [سورة المرسلات: 33] کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد بحری جہازوں کے وہ موٹے رسے ہیں جنہیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ مردوں کے دھڑ کی طرح موٹے ہو جاتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا!