کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تفسیر سورۂ هل أتى على الإنسان — آسمان میں چار انگلیوں کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی فرشتہ سجدہ ریز نہ ہو
أخبرنا محمد بن علي بن دُحَيم، أخبرنا أحمد بن حازم الغفاري، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهدٍ، عن مُورِّق العِجْلي، عن أبي ذرٍّ قال: قرأ رسول الله ﷺ: ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا﴾ حتى خَتمها، ثم قال: "إني أرَى ما لا تَرَونَ، وأسمعَ ما لا تسمعون، أَطَّتِ السماءُ وحُقَّ لها أن تَئِطَّ، ما فيها موضعُ قَدَمٍ (1) أربع أصابعَ إِلَّا مَلَكٌ واضعٌ جبهتَه ساجدًا لله. والله لو تعلمون ما أعلمُ، لَضحكتُم قليلًا ولبكيتُم كثيرًا، وما تَلذَّذتُم بالنساء على الفُرُش، ولخرجتُم إلى الصُّعُداتِ تَجأَرون إلى الله تعالى"، والله لَودِدتُ أني شجرةٌ تُعضَدُ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3883 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورہ دہر کی ابتدائی آیت ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا﴾ [سورة الإنسان: 1] سے لے کر آخر تک تلاوت فرمائی، پھر فرمایا: ”میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانے کا حق ہے، کیونکہ اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ اللہ کے حضور سجدے میں پیشانی نہ رکھے ہوئے ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لذت حاصل نہ کر پاتے، بلکہ تم اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کرتے ہوئے میدانوں کی طرف نکل جاتے۔“ (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ مزید کہتے ہیں:) اللہ کی قسم! کاش میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3927
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير إبراهيم بن مهاجر ففيه لين، وهو حسن الحديث في المتابعات والشواهد، والإسناد منقطع، فإنَّ مورِّقًا العجلي لم يسمع أبا ذر الغفاري.» [ترقيم الرساله 3927] [ترقيم الشركة 3905] [ترقيم العلميه 3883]
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن سليمان بن الحارث، حدَّثنا أبو غسان، حدَّثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن البَراء بن عازبٍ في قوله ﷿: ﴿وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا﴾ [الإنسان: 14] قال: ذُلِّلَت لهم فيتناولون منها كيف شاؤوا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3884 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا﴾ [سورة الإنسان: 14] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (جنت کے پھل) ان کے لیے اتنے مسخر کر دیے گئے ہیں کہ وہ جیسے چاہیں (بیٹھے، لیٹے یا کھڑے) انہیں توڑ کر حاصل کر سکیں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3928
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد قوي، محمد بن سليمان بن الحارث» [ترقيم الرساله 3928] [ترقيم الشركة 3906] [ترقيم العلميه 3884]