کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جنت کے سب سے ادنیٰ اور سب سے اعلیٰ درجے والے کا بیان
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا أبو معاوية، حدَّثنا عبد الملك بن أَبجَرَ، عن ثُوَير بن أبي فاختة، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ أدنى أهل الجنة منزلةً، لَرجلٌ يَنظُر في مُلكِ الفَي سنةٍ، يَرى أقصاه كما يَرى أدناه، يَنظُر في أزواجِه وخَدَمِهِ وسُرُرِه، وإِنَّ أفضل أهل الجنة منزلةً، لمَن يَنظُر في وجه الله تعالى كلَّ يومٍ مرَّتين" (2). تابعه إسرائيلُ بن يونس عن ثُوَير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3880 - بل هو واهي الحديث يعني ثوير بن أبي فاختة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3880 - بل هو واهي الحديث يعني ثوير بن أبي فاختة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ جنت میں سے ادنیٰ درجے کا وہ شخص ہوگا جو اپنی سلطنت میں دو ہزار سال کی مسافت تک نظر دوڑائے گا، وہ اس کے آخری سرے کو ویسے ہی دیکھے گا جیسے قریب کے حصے کو دیکھتا ہے، وہ اپنی بیویوں، خادموں اور تخت و شاہی کو دیکھ رہا ہوگا، اور اہل جنت میں سب سے افضل درجے کا وہ شخص ہوگا جو ہر روز دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کا دیدار کرے گا۔“
حدَّثَناه أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدَّثنا سعيدٌ بن مسعود، حدَّثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن ثُوَير، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ أدنى أهل الجنة منزلةً لمَن ينظُر في مُلكِ ألفَي سنةٍ، وإنَّ أفضلهم منزلةً لمَن يَنظُر في وجه الله كلَّ يومٍ مرَّتين"، ثم تلا: ﴿وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ﴾ [القيامة: 22] قال: "بالبياض والصَّفاءِ" ﴿إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ [القيامة: 23]، قال: "يَنظُر كلَّ يومٍ في وجه الله ﷿" (1).
هذا حديث مفسَّر في الردِّ على المبتدعة، وثُوَيرُ بن أبي فاختة وإن لم يُخرجاه، فلم يُنقَمْ عليه غيرُ التشيُّع (2).
هذا حديث مفسَّر في الردِّ على المبتدعة، وثُوَيرُ بن أبي فاختة وإن لم يُخرجاه، فلم يُنقَمْ عليه غيرُ التشيُّع (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ جنت میں سے ادنیٰ مرتبے والا وہ ہوگا جو اپنی دو ہزار سال کی مسافت تک کی سلطنت کو دیکھے گا، اور ان میں سب سے افضل مرتبے والے وہ ہوں گے جو ہر روز دو مرتبہ اللہ کے چہرے کا دیدار کریں گے“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ﴾ [سورة القيامة: 22] آپ ﷺ نے فرمایا: ”یعنی سفید اور چمکدار چہرے“ ﴿إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ [سورة القيامة: 23] آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہر روز اللہ عزوجل کے چہرے کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“
یہ حدیث بدعتیوں کے رد میں ایک تفسیری دلیل ہے، اور ثویر بن ابی فاختہ سے اگرچہ شیخین نے روایت نہیں کی، لیکن ان پر تشیع کے سوا کوئی جرح نہیں کی گئی۔
یہ حدیث بدعتیوں کے رد میں ایک تفسیری دلیل ہے، اور ثویر بن ابی فاختہ سے اگرچہ شیخین نے روایت نہیں کی، لیکن ان پر تشیع کے سوا کوئی جرح نہیں کی گئی۔
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدَّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدَّثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل عارمٌ، حدَّثنا أبو عَوَانة، عن موسى بن أبي عائشة، عن سعيد بن جُبير قال: قلت لابن عبَّاس: ﴿أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى﴾ [القيامة:34]، أشيءٌ قاله رسولُ الله ﷺ، أو شيءٌ أَنزَلَه الله؟ قال: قاله رسولُ الله ﷺ، ثم أَنزَلَه الله (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3881 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3881 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: (اے اللہ کے رسول!) کیا ﴿أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى﴾ [سورة القيامة: 34] کوئی ایسی بات ہے جو رسول اللہ ﷺ نے (اپنی طرف سے) کہی تھی یا یہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ کلمات رسول اللہ ﷺ نے فرمائے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے (قرآن میں) نازل فرما دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدَّثنا سعيدٌ بن مسعود، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا يزيد بن عِيَاض، عن إسماعيل بن أُمَيَّة، عن أبي اليَسَع، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ كان إذا قرأ ﴿أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى﴾ [القيامة: 40]، قال: "بَلَى"، وإذا قرأ ﴿أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ﴾ [التين: 8]، قال: "بلى" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [76 - تفسير (هل أتى على الإنسان)] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3882 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [76 - تفسير (هل أتى على الإنسان)] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3882 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب یہ آیت ﴿أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى﴾ [سورة القيامة: 40] ”کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے؟“ تلاوت فرماتے تو کہتے: «بَلَى» ”کیوں نہیں (یقیناً قادر ہے)“، اور جب ﴿أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ﴾ [سورة التين: 8] ”کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟“ پڑھتے تو کہتے: «بَلَى» ”کیوں نہیں (یقیناً ہے)“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔