حدثني أبو علي الحسن (4) بن محمد المصري الحافظ بمكة، حدثنا علَّان بن أحمد بن سليمان، حدثنا عمرو بن سوَّاد السَّرْحي، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ في قوله ﷿: ﴿كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ﴾ [الرحمن: 58]، قال: "يَنظُرُ إلى وجهه في خدِّها أصفى من المِرآة، وإن أدنى لُؤلؤةٍ عليها لَتُضيءُ ما بين المشرق والمغربِ، وإنها يكون عليها سبعون ثوبًا يَنفُذُها بصرُه حتى يَرى مخَّ ساقِها من وراءِ ذلك" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3774 - دراج صاحب عجائب
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3774 - دراج صاحب عجائب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ﴾ ”گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں“ [سورة الرحمن: 58] کے متعلق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”(جنتی شخص) اپنے چہرے کو حور کے رخسار میں آئینے سے بھی زیادہ صاف دیکھے گا، اور اس حور پر موجود ادنیٰ سا موتی بھی مشرق و مغرب کے درمیان کے حصے کو روشن کر دے گا، اور اس حور پر ستر لباس ہوں گے جن کے پار سے وہ (جنتی شخص) اس کی پنڈلی کا گودا بھی دیکھ سکے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ إملاءً، حدثنا حامد بن أبي حامدٍ المقرئ، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا عَنبَسة بن سعيد وعمرو بن أبي قيس، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ﴾ [هود: 7]، قال: كان عرشُ الله على الماء ثم اتَّخذ لنفسه جنَّةً ثم اتَّخذ دونَها أخرى، ثم أطبقهما بلؤلؤةٍ واحدة، فقال عزَّ مِن قائل: ﴿وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ﴾ [الرحمن: 62]، قال: وهي التي لا تَعلمُ الخلائقُ ما فيها، قال: وهي التي قال الله ﷿: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [السجدة: 17] يأتيهم منها كلَّ يوم تُحفةُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3775 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3775 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ﴾ ”اور اس کا عرش پانی پر تھا“ [سورة هود: 7] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کا عرش پانی پر تھا، پھر اس نے اپنے لیے ایک جنت بنائی اور اس سے نیچے ایک اور جنت بنائی، پھر ان دونوں کو ایک ہی موتی سے ڈھانپ دیا، چنانچہ اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ﴾ ”اور ان دو کے علاوہ دو جنتیں اور بھی ہیں“ [سورة الرحمن: 62]، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ وہ جنت ہے جس میں موجود نعمتوں کا مخلوق کو علم نہیں ہے، اور یہی وہ جنت ہے جس کے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ”پس کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے“ [سورة السجدة: 17] اور ہر روز ان کے پاس وہاں سے کوئی نیا تحفہ آتا رہے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔