أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، حدثنا جدِّي، حدثنا أحمد بن حَرْب، حدثنا سفيان، عن أبي حمزة الثُّمَالي، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾ [الرحمن: 29]، قال: إنَّ مما خَلَقَ اللهُ لَلَوحًا محفوظًا من دُرَّةٍ بيضاءَ، دَفَّتاهُ من ياقوتةٍ حمراء، قلمُه بر (2) وكتابه نورٌ، يَنظُر فيه كلَّ يوم ثلاثَ مئة وستين نظرةً - أو مرةً - ففى كلِّ نظرةٍ منها يَخلُق ويَرزُق، ويُحيي ويُميت، ويُعزُّ ويُذِلّ، ويفعلُ ما يشاء، فذلك قولُه: ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾ (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3771 - اسم أبي حمزة ثابت وهو واه بمرة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3771 - اسم أبي حمزة ثابت وهو واه بمرة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾ ”وہ ہر دن کسی (نئی) شان میں ہے“ [سورة الرحمن: 29] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سفید موتی سے ایک لوحِ محفوظ پیدا فرمائی ہے جس کے دونوں پٹ سرخ یاقوت کے ہیں، اس کا قلم نور ہے اور اس کی تحریر بھی نور ہے، اللہ تعالیٰ اس میں ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ نظر فرماتا ہے، اور ہر بار نظر فرمانے میں وہ پیدا کرتا ہے، رزق دیتا ہے، زندگی بخشتا ہے، موت دیتا ہے، عزت عطا کرتا ہے، ذلیل کرتا ہے اور جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے، پس یہی اللہ کا یہ فرمان ہے کہ ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، عن حماد بن حماد بن سَلَمة، عن أبي عِمران الجَوْني عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبيه: ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ [الرحمن: 46]، قال: جنَّتَانِ من ذهب للسابِقين، وجنَّتان من فضّةٍ للتابعِين (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3772 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3772 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ ”اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتیں ہیں“ [سورة الرحمن: 46] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سابقین (نیکیوں میں سبقت لے جانے والوں) کے لیے سونے کی دو جنتیں ہوں گی اور تابعین (ان کے پیچھے آنے والوں) کے لیے چاندی کی دو جنتیں ہوں گی۔“
أخبرنا أبو العبَّاس المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سيّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن هُبيرة بن يَرِيم (2)، عن عبد الله بن مسعود في قوله ﷿: ﴿بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ﴾ [الرحمن: 54] قال: أُخبِرتُم بالبطائن، فكيف بالظَّهائر (3). صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3773 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3773 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ﴾ ”جن کے استر دبیز ریشم کے ہیں“ [سورة الرحمن: 54] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تمہیں ان کے استر (اندرونی تہوں) کے بارے میں بتایا گیا ہے، تو ذرا سوچو ان کے اوپر والے حصے (ظاہری ریشم) کا عالم کیا ہوگا!۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔