أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد الطَّنافِسي، حَدَّثَنَا بسّام بن عبد الرحمن الصَّيرَفي، حَدَّثَنَا أبو الطُّفيل قال: رأيتُ أميرَ المؤمنين عليَّ بن أبي طالب قام على المِنبَر فقال: سَلُوني قبل أن لا تَسألوني، ولن تَسألوا بعدي مِثْلي، قال: فقام ابن الكَوَّاء فقال: يا أميرَ المؤمنين، ما الذارياتُ ذَرْوًا، قال: الرِّياح، قال: فما الحاملاتُ وِقْرًا، قال: السَّحاب، قال: فما الجارياتُ يُسْرًا، قال: السُّفن، قال: فما المقسِّماتُ أَمرًا، قال: الملائكة، قال: فمَن ﴿الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفَرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إبراهيم: 28] قال: منافقُو (1) قريشٍ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3736 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3736 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوطفیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو منبر پر کھڑے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”مجھ سے (جو پوچھنا ہے) پوچھ لو قبل اس کے کہ تم مجھ سے نہ پوچھ سکو، اور میرے بعد میرے جیسا (علم والا) تم سے کوئی مخاطب نہیں ہوگا“، تو ابن کواء کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! ﴿الذاريات ذروا﴾ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہوائیں“، اس نے پوچھا: ﴿الحاملات وقرا﴾ کیا ہیں؟ فرمایا: ”بادل“، اس نے پوچھا: ﴿الجاریات یسرا﴾ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، اس نے پوچھا: ﴿المقسمات امرا﴾ کون ہیں؟ فرمایا: ”فرشتے“، اس نے پوچھا: وہ کون ہیں ﴿الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفَرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ ”جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں اتار دیا؟“ [سورة إبراهيم: 28] آپ نے فرمایا: ”وہ قریش کے منافقین ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الرحمن بن أبي الوَزِير، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرَّازي، حَدَّثَنَا الأنصاري، عن سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن أنس في هذه الآية: ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ [الذاريات: 17]، قال: كانوا يُصلُّون بين العشاءِ والمغرب (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3737 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3737 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس آیت ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ ”وہ رات کے تھوڑے حصے میں سوتے تھے“ [سورة الذاريات: 17] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان (نفل) نماز پڑھا کرتے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن الحَكَم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ (17)﴾، قال: لا تمرُّ بهم ليلةٌ ينامون حتَّى يُصبِحوا يُصلُّون فيها (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ مُسنَد من وجهٍ آخر (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3738 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ مُسنَد من وجهٍ آخر (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3738 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ [سورة الذاريات: 17] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ان پر کوئی ایسی رات نہیں گزرتی تھی جس میں وہ صبح تک سوتے رہیں اور اس میں نماز نہ پڑھتے ہوں (یعنی رات کا کچھ حصہ ضرور عبادت میں گزارتے تھے)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک مسند شاہد دوسری سند سے بھی موجود ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک مسند شاہد دوسری سند سے بھی موجود ہے۔