حدیث نمبر: 3778
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد الطَّنافِسي، حَدَّثَنَا بسّام بن عبد الرحمن الصَّيرَفي، حَدَّثَنَا أبو الطُّفيل قال: رأيتُ أميرَ المؤمنين عليَّ بن أبي طالب قام على المِنبَر فقال: سَلُوني قبل أن لا تَسألوني، ولن تَسألوا بعدي مِثْلي، قال: فقام ابن الكَوَّاء فقال: يا أميرَ المؤمنين، ما الذارياتُ ذَرْوًا، قال: الرِّياح، قال: فما الحاملاتُ وِقْرًا، قال: السَّحاب، قال: فما الجارياتُ يُسْرًا، قال: السُّفن، قال: فما المقسِّماتُ أَمرًا، قال: الملائكة، قال: فمَن ﴿الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفَرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إبراهيم: 28] قال: منافقُو (1) قريشٍ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3736 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

ابوطفیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو منبر پر کھڑے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”مجھ سے (جو پوچھنا ہے) پوچھ لو قبل اس کے کہ تم مجھ سے نہ پوچھ سکو، اور میرے بعد میرے جیسا (علم والا) تم سے کوئی مخاطب نہیں ہوگا“، تو ابن کواء کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! ﴿الذاريات ذروا﴾ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہوائیں“، اس نے پوچھا: ﴿الحاملات وقرا﴾ کیا ہیں؟ فرمایا: ”بادل“، اس نے پوچھا: ﴿الجاریات یسرا﴾ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، اس نے پوچھا: ﴿المقسمات امرا﴾ کون ہیں؟ فرمایا: ”فرشتے“، اس نے پوچھا: وہ کون ہیں ﴿الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفَرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ ”جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں اتار دیا؟“ [سورة إبراهيم: 28] آپ نے فرمایا: ”وہ قریش کے منافقین ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3778
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل بسام بن عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 3778] [ترقيم الشركة 3757] [ترقيم العلميه 3736]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: منافقي، والمثبت من المطبوع وهو الجادّة.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "منافقی" ہے، جبکہ مطبوعہ میں جو ثابت ہے وہ درست راستہ (جادّہ) ہے۔
(2) خبر صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل بسام بن عبد الرحمن.
درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے اور بسام بن عبد الرحمن کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔
وأخرجه بأطول ممّا هنا عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 241 - 242 عن معمر، عن وهب بن عبد الله - وهو ابن أبي دُبيّ الهُنائي - عن أبي الطفيل، به. وإسناده صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے "تفسیر" (2/ 241-242) میں یہاں سے زیادہ طوالت کے ساتھ معمر عن وہب بن عبد اللہ (ابن ابی دبی ہنائی) عن ابی الطفیل کے طریق سے روایت کیا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وسلف مختصرًا برقم (3382) من طريق أبي نعيم عن بسام الصيرفي.
حوالہ / مصدر: یہ مختصراً نمبر (3382) پر ابو نعیم عن بسام صیرفی کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3778 سے ماخوذ ہے۔