أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي الليث، حَدَّثَنَا الأشجعيُّ، عن سفيان، عن خُصَيف، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ﴾ [الذاريات: 41]، قال: التي لا تُلقِحُ شيئًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3740 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3740 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ﴾ ”اور (نشانی ہے) قومِ عاد میں جب ہم نے ان پر خیر سے خالی (بانجھ) ہوا بھیجی“ [سورة الذاريات: 41] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ ہوا ہے جو کسی چیز کو بارآور (نفع بخش) نہیں کرتی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد الجارِيّ، حدثني عبد الله بن الحارث بن فُضَيل الخطمي، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله قال: كان من دعاء النَّبِيّ ﷺ: "اللهم إني أعوذُ بك من شرِّ الرِّيح ومن شرِّ ما تجيءُ به الريحُ، ومن ريح الشَّمالِ (1)، فإنها الريحُ العَقِيم" (2). ﷽ 52 - ومن سورة الطُّور
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الرِّيحِ وَمِنْ شَرِّ مَا تَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ، وَمِنْ رِيحِ الشَّمَالِ، فَإِنَّهَا الرِّيحُ الْعَقِيمُ» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہوا کے شر سے، اور اس شر سے جو یہ ہوا لاتی ہے، اور شمال کی ہوا سے پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ یہ بانجھ (یعنی ہلاکت خیز) ہوا ہے۔“