المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الذَّارِيَاتِ باب: سورۃ الذاریات کی تفسیر
حدیث نمبر: 3779
أخبرنا أبو عبد الرحمن بن أبي الوَزِير، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرَّازي، حَدَّثَنَا الأنصاري، عن سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن أنس في هذه الآية: ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ [الذاريات: 17]، قال: كانوا يُصلُّون بين العشاءِ والمغرب (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3737 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس آیت ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ ”وہ رات کے تھوڑے حصے میں سوتے تھے“ [سورة الذاريات: 17] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان (نفل) نماز پڑھا کرتے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس، والأنصاري: هو محمد بن عبد الله بن المثنى.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو حاتم رازی سے مراد محمد بن ادریس اور انصاری سے مراد محمد بن عبد اللہ بن مثنیٰ ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1322) من طريق يحيى بن سعيد وابن أبي عدي، عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داؤد (1322) نے یحییٰ بن سعید اور ابن ابی عدی عن سعید بن ابی عروبہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو حاتم رازی سے مراد محمد بن ادریس اور انصاری سے مراد محمد بن عبد اللہ بن مثنیٰ ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1322) من طريق يحيى بن سعيد وابن أبي عدي، عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داؤد (1322) نے یحییٰ بن سعید اور ابن ابی عدی عن سعید بن ابی عروبہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3779 سے ماخوذ ہے۔