حدیث نمبر: 3773
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا محمد بن نُعيم، حَدَّثَنَا قُتَيبة، حَدَّثَنَا الليث بن سعد عن يزيد بن عبد الله بن الهادِ، عن موسى بن سَرجِسَ قال: سمعت ابنَ محمد يُحدِّث وتَلَا قولَ الله ﷿: ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ [ق: 19]، ثم قال: حدَّثتني أمُّ المؤمنين قالت: لقد رأيتُ رسولَ الله ﷺ وهو بالموت وعنده قَدحٌ فيه ماءٌ وهو يُدخِل يدَه في القَدَح، ثم يَمسَحُ وجهَه بالماء، ثم يقول: "اللهم أعِنِّي على سَكَراتِ الموت" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3731 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ ”اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آ پہنچی، یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا“ [سورة ق: 19] کی تلاوت کی، پھر کہا کہ مجھے ام المؤمنین (سیدہ عائشہ) رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وفات کے وقت دیکھا کہ آپ کے پاس پانی کا ایک پیالہ رکھا تھا، آپ اپنا ہاتھ اس پیالے میں ڈالتے پھر اس سے اپنے چہرہ مبارک کا مسح فرماتے اور یہ دعا کرتے: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ» ”اے اللہ! موت کی سختیوں (اور تکلیفوں) پر میری مدد فرما۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3773
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسى بن سَرْجِس، وقد خالفه في لفظ الحديث عبد الرحمن بن القاسم بن محمد الثقة الفقيه كما سيأتي. محمد بن نعيم: هو ابن عبد الله أبو بكر النيسابوري كما في "تاريخ الإسلام" للذهبي 6/ 826، ولم يأثر فيه جرحًا ولا تعديلًا، وقتيبة: هو ابن ...» [ترقيم الرساله 3773] [ترقيم الشركة 3752] [ترقيم العلميه 3731]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسى بن سَرْجِس، وقد خالفه في لفظ الحديث عبد الرحمن بن القاسم بن محمد الثقة الفقيه كما سيأتي. محمد بن نعيم: هو ابن عبد الله أبو بكر النيسابوري كما في "تاريخ الإسلام" للذهبي 6/ 826، ولم يأثر فيه جرحًا ولا تعديلًا، وقتيبة: هو ابن سعيد، وابن محمد: هو القاسم بن محمد بن أبي بكر، وأم المؤمنين عمّته عائشة ﵂.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، لیکن یہ سند موسیٰ بن سرجس کی جہالت کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: انہوں نے حدیث کے الفاظ میں ثقہ فقیہ عبد الرحمن بن قاسم بن محمد کی مخالفت کی ہے (جیسا کہ آگے آئے گا)۔ محمد بن نعیم سے مراد ابن عبد اللہ ابو بکر نیشاپوری ہیں، ان پر جرح و تعدیل نہیں ملی۔ قتیبہ سے مراد ابن سعید، اور ابن محمد سے مراد قاسم بن محمد بن ابی بکر ہیں، اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی پھوپھی ہیں۔
وأخرجه الترمذي (978) عن قتيبة، بهذا الإسناد - ولم يذكر فيه التلاوة، وقال: حديث غريب.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (978) نے قتیبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا (تلاوت کے ذکر کے بغیر)، اور اسے "غریب" کہا۔
وأخرجه أحمد 40/ (24356) و (24416) و 41 / (24481) و 42 / (25176)، وابن ماجه (1623)، والنسائي (7064) و (10866) من طرق عن الليث بن سعد، به - ووهم ابن ماجه فجعل مكان يزيد بن الهاد: يزيد بن أبي حبيب.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابن ماجہ (1623) اور نسائی نے لیث بن سعد کے مختلف طرق سے روایت کیا۔
فنی نکتہ / علّت: ابن ماجہ کو وہم ہوا ہے کہ انہوں نے یزید بن ہاد کی جگہ "یزید بن ابی حبیب" کر دیا ہے۔
وسيأتي برقم (4434) من طريق شعيب بن الليث وعبد الله بن عبد الحكم عن الليث. ورواه عبد الرحمن بن القاسم بن محمد عن أبيه عن عائشة بلفظ: توفي رسول الله ﷺ بين حاقنتي وذاقتني، فلا أكره شدة الموت لأحدٍ أبدًا بعد الذي رأيت برسول الله ﷺ. أخرجه أحمد 40 / (24354) و 41/ (24482)، والبخاري (4446)، والنسائي (1969) من طرق عن الليث بن سعد، عن يزيد بن الهاد، عن عبد الرحمن بن القاسم.
تفصیلِ روایت: یہ آگے نمبر (4434) پر شعیب بن لیث اور عبد اللہ بن عبد الحکم عن لیث کے طریق سے آئے گا۔ اور عبد الرحمن بن قاسم نے اسے اپنے والد عن عائشہ سے ان الفاظ میں روایت کیا: "رسول اللہ ﷺ میری ٹھوڑی اور حلق کے درمیان فوت ہوئے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی (تکلیف) دیکھنے کے بعد اب میں کسی کے لیے موت کی سختی کو برا نہیں سمجھتی۔" اسے احمد، بخاری (4446) اور نسائی نے لیث بن سعد عن یزید بن ہاد عن عبد الرحمن بن قاسم کے طرق سے روایت کیا۔
وقد صحَّ عن عائشة ذكرُ سكرات الموت من غير هذا الوجه فقد أخرجه البخاري (4449) من حديث ذكوان مولى عائشة عن عائشة، وفيه: وبين يديه رَكْوة فيها ماء، فجعل يُدخل يديه في الماء فيمسح بهما وجهه يقول: "لا إله إلا الله، إنَّ للموت سكرات".
متابعات و شواہد: عائشہ رضی اللہ عنہا سے سکراتِ موت کا ذکر دوسرے طریق سے بھی ثابت ہے؛ بخاری (4449) میں ذکوان مولی عائشہ عن عائشہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ کے سامنے پانی کا پیالہ تھا، آپ اس میں ہاتھ ڈال کر چہرہ مبارک پر ملتے اور فرماتے: "لا الہ الا اللہ، بے شک موت کی سختیاں ہیں۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3773 سے ماخوذ ہے۔