کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ نے تمہارے اخلاق اسی طرح تقسیم کیے ہیں جس طرح تمہارے رزق تقسیم کیے ہیں
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، حَدَّثَنَا يعلى بن عُبيد، حَدَّثَنَا ابن إسحاق، عن الصَّبّاح بن محمد، عن مُرَّةَ، عن عبد الله: ﴿أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم﴾ الآية [الزخرف: 32]، فقال عبد الله: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ الله قَسَمَ بينكم أخلاقَكم كما قَسَمَ بينكم أرزاقَكم، وإِنَّ الله يُغطي الدنيا مَن أحبَّ ومن لا يُحِبُّ، ولا يُعطي الدِّينَ إِلَّا من يحبُّ، فمن أعطاه الدِّينَ فقد أحبَّه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3671 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق کو اسی طرح تقسیم فرمایا ہے جس طرح تمہارے درمیان تمہارے رزق کو تقسیم کیا ہے، اور بے شک اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی عطا کرتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے بھی جس سے محبت نہیں کرتا، لیکن دین صرف اسے عطا کرتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے، پس جسے اللہ نے دین کی دولت دے دی، اس سے اللہ نے محبت کی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3712
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا كما سلف بيانه برقم (94)
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا كما سلف بيانه برقم (94)، وهذا إسناد ضعيف لضعف الصباح بن محمد: وهو ابن أبي حازم البجلي. ابن إسحاق: هو أبان بن إسحاق الأسدي الهمداني، ومُرَّة: هو ابن شراحيل، وعبد الله: هو ابن مسعود.» [ترقيم الرساله 3712] [ترقيم الشركة 3692] [ترقيم العلميه 3671]
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن عبيد بن حِسَاب، حَدَّثَنَا محمد بن ثَوْر، عن مَعمَر، عن قَتَادة: أنه تلا هذه الآية: ﴿فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ﴾ [الزخرف: 41] فقال: قال أنس: ذَهَبَ رسولُ الله ﷺ وَبِقَيت النِّقمةُ، ولم يُرِ اللهُ نبيَّه ﷺ في أمَّته شيئًا يكرهُه حتَّى مَضَى، ولم يكن نبيٌّ إلَّا قد رأى العقوبةَ في أمَّته إلَّا نبيَّكم ﷺ (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3672 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ﴾ [الزخرف: 41] ”پھر اگر ہم آپ کو (دنیا سے) لے جائیں تو بھی ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں۔“ پھر انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ تو تشریف لے گئے لیکن انتقام (سزا) باقی رہ گئی، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو آپ کی امت میں کوئی ایسی ناپسندیدہ چیز نہیں دکھائی جو آپ ﷺ کی آنکھوں کو بری لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ رخصت ہو گئے، اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت میں (اپنی زندگی ہی میں) سزا نہ دیکھی ہو سوائے تمہارے نبی ﷺ کے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3713
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح لكن من قول قتادة
تخریج حدیث «خبر صحيح لكن من قول قتادة، وذكرُ أنس فيه وهمٌ لعلّه من محمد بن عبيد بن حساب أو ممّن دونه، فقد رواه يونس بن عبد الأعلى عن محمد بن ثور عند الطبري في "تفسيره" 25/ 75 فلم يجاوز به قتادة، وكذلك رواه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 197 عن معمر عن قتادة لم يجاوزه.» [ترقيم الرساله 3713] [ترقيم الشركة 3693] [ترقيم العلميه 3672]
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حَدَّثَنَا مسدَّد بن قَطَن، حَدَّثَنَا عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا معاوية بن هشام، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا المُغيرة بن النُّعمان، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ: "يُؤْخَذُ بناسٍ من أصحابي ذاتَ الشِّمال فأقول: أصحابي أصحابي! فيقال: إنَّهم لم يزالوا مُرتدِّين على أعقابهم بعدَك، فأقولُ كما قال العبدُ الصالحُ عيسى ابن مريمَ: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ﴾ [المائدة: 117] " (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3673 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(بروزِ قیامت) میرے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو بائیں طرف (جہنم کی طرف) لے جایا جائے گا، تو میں پکاروں گا: میرے ساتھی! میرے ساتھی! اس پر کہا جائے گا: یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹتے رہے، تب میں وہی کہوں گا جو نیک بندے (سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام) نے کہا تھا: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ﴾ ”اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگہبان تھا۔“ [سورة المائدة: 117]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3714
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل معاوية بن هشام، وقد توبع. سفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3714] [ترقيم الشركة 3694] [ترقيم العلميه 3673]