حدیث نمبر: 3713
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن عبيد بن حِسَاب، حَدَّثَنَا محمد بن ثَوْر، عن مَعمَر، عن قَتَادة: أنه تلا هذه الآية: ﴿فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ﴾ [الزخرف: 41] فقال: قال أنس: ذَهَبَ رسولُ الله ﷺ وَبِقَيت النِّقمةُ، ولم يُرِ اللهُ نبيَّه ﷺ في أمَّته شيئًا يكرهُه حتَّى مَضَى، ولم يكن نبيٌّ إلَّا قد رأى العقوبةَ في أمَّته إلَّا نبيَّكم ﷺ (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3672 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ﴾ [الزخرف: 41] ”پھر اگر ہم آپ کو (دنیا سے) لے جائیں تو بھی ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں۔“ پھر انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ تو تشریف لے گئے لیکن انتقام (سزا) باقی رہ گئی، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو آپ کی امت میں کوئی ایسی ناپسندیدہ چیز نہیں دکھائی جو آپ ﷺ کی آنکھوں کو بری لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ رخصت ہو گئے، اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت میں (اپنی زندگی ہی میں) سزا نہ دیکھی ہو سوائے تمہارے نبی ﷺ کے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3713
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح لكن من قول قتادة
تخریج حدیث «خبر صحيح لكن من قول قتادة، وذكرُ أنس فيه وهمٌ لعلّه من محمد بن عبيد بن حساب أو ممّن دونه، فقد رواه يونس بن عبد الأعلى عن محمد بن ثور عند الطبري في "تفسيره" 25/ 75 فلم يجاوز به قتادة، وكذلك رواه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 197 عن معمر عن قتادة لم يجاوزه.» [ترقيم الرساله 3713] [ترقيم الشركة 3693] [ترقيم العلميه 3672]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر صحيح لكن من قول قتادة، وذكرُ أنس فيه وهمٌ لعلّه من محمد بن عبيد بن حساب أو ممّن دونه، فقد رواه يونس بن عبد الأعلى عن محمد بن ثور عند الطبري في "تفسيره" 25/ 75 فلم يجاوز به قتادة، وكذلك رواه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 197 عن معمر عن قتادة لم يجاوزه.
درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے لیکن یہ قتادہ کا قول ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں انس رضی اللہ عنہ کا ذکر وہم (غلطی) ہے، جو شاید محمد بن عبید بن حساب یا ان سے نچلے راوی کی طرف سے ہے۔ دلیل یہ ہے کہ یونس بن عبد الاعلیٰ نے طبری کی "تفسیر" (25/ 75) میں اسے قتادہ تک موقوف رکھا ہے، اسی طرح عبد الرزاق نے اپنی "تفسیر" (2/ 197) میں معمر عن قتادہ سے روایت کیا اور اسے آگے نہیں بڑھایا۔
وأما إسناد المصنّف فحسن إن شاء الله، رجاله ثقات غير الحسن بن علي بن زياد السُّرّي، فقد روى عنه جمع ولم يؤثر فيه جرح أو تعديل، وهو في الغالب متابع فيما يرويه.
درجۂ حدیث: مصنف کی سند ان شاء اللہ "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے راوی ثقہ ہیں سوائے حسن بن علی بن زیاد السُّرّی کے، جن سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ان پر کوئی جرح یا تعدیل نہیں ملتی، البتہ ان کی مرویات میں عموماً متابعت پائی جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3713 سے ماخوذ ہے۔