حدیث نمبر: 3715
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب الفرَّاء، حَدَّثَنَا جعفر بن عَوْن، أخبرنا الحجَّاج بن دينار، عن أبي غالب، عن أبي أُمامة قال: قال النَّبِيّ ﷺ: "ما ضَلَّ قومٌ بعد هدًى إلَّا أُوتُوا الجَدَل"، ثم قرأَ رسول الله ﷺ: ﴿مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [الزخرف: 58] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3674 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو قوم ہدایت پانے کے بعد گمراہ ہوئی اسے بحث و تکرار (جدل) میں ڈال دیا گیا“، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ ”انہوں نے یہ مثال آپ کے سامنے محض جھگڑے کے لیے پیش کی ہے، بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔“ [الزخرف: 58]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3715
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي غالب» [ترقيم الرساله 3715] [ترقيم الشركة 3695] [ترقيم العلميه 3674]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي غالب - وهو البصري نزيل أصبهان - فإنه ليس بذاك القوي، وقد توبع، ومن دونه لا بأس بهم.
درجۂ حدیث: متابعات اور شواہد کی بنا پر اس کی سند "حسن" ہے، جس کی وجہ ابو غالب (بصری نزیل اصفہان) ہیں جو زیادہ قوی نہیں، لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے۔ ان سے نچلے راویوں میں کوئی حرج نہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (22164) و (22204) و (22205)، وابن ماجه (48)، والترمذي (3253) من طرق عن حجاج بن دينار، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (36/ 22164 وغیرہ)، ابن ماجہ (48) اور ترمذی (3253) نے حجاج بن دینار کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" - كما في "تفسير ابن كثير" 7/ 222 - وابن بطة في "الإبانة الكبرى" 2/ 485 من طريق مؤمّل بن إسماعيل، عن حماد بن زيد، عن أبي مخزوم، عن القاسم بن عبد الرحمن الشامي، عن أبي أمامة، قال حماد: لا أدري رفعه أم لا. وهذا إسناد يصلح للاعتبار إن شاء الله على جهالة في أبي مخزوم - واسمه حماد كما قال ابن صاعد شيخ ابن بطة فيه - ومؤمّل بن إسماعيل في حفظه كلام.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" میں اور ابن بطہ نے "الابانة الکبریٰ" (2/ 485) میں مؤمل بن اسماعیل عن حماد بن زید عن ابو مخزوم عن قاسم بن عبد الرحمن عن ابی امامہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ حماد نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ اسے مرفوع کیا یا نہیں۔
درجۂ حدیث: یہ سند اعتبار کے قابل ہے اگرچہ ابو مخزوم (جن کا نام حماد ہے) میں جہالت ہے اور مؤمل بن اسماعیل کے حافظے میں کلام ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3715 سے ماخوذ ہے۔