حدیث نمبر: 3714
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حَدَّثَنَا مسدَّد بن قَطَن، حَدَّثَنَا عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا معاوية بن هشام، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا المُغيرة بن النُّعمان، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ: "يُؤْخَذُ بناسٍ من أصحابي ذاتَ الشِّمال فأقول: أصحابي أصحابي! فيقال: إنَّهم لم يزالوا مُرتدِّين على أعقابهم بعدَك، فأقولُ كما قال العبدُ الصالحُ عيسى ابن مريمَ: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ﴾ [المائدة: 117] " (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3673 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(بروزِ قیامت) میرے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو بائیں طرف (جہنم کی طرف) لے جایا جائے گا، تو میں پکاروں گا: میرے ساتھی! میرے ساتھی! اس پر کہا جائے گا: یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹتے رہے، تب میں وہی کہوں گا جو نیک بندے (سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام) نے کہا تھا: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ﴾ ”اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگہبان تھا۔“ [سورة المائدة: 117]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3714
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل معاوية بن هشام، وقد توبع. سفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3714] [ترقيم الشركة 3694] [ترقيم العلميه 3673]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل معاوية بن هشام، وقد توبع. سفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور یہ سند معاویہ بن ہشام کی وجہ سے "قوی" ہے اور اس کی متابعت موجود ہے۔ سفیان سے مراد ثوری ہیں۔
وأخرجه البخاري (3349) و (3447) و (4626)، والترمذي (2423)، والنسائي (11095) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد - مجموعًا إليه الحديث السالف برقم (3032). وأخرجه كذلك أحمد 4 / (2096) و (2281)، والبخاري (4625) و (4740) و (6526)، ومسلم (2860) (58)، والترمذي (2423) و (3167)، والنسائي (2225) و (11274)، وابن حبان (7347) من طريق شعبة، عن المغيرة بن النعمان، به فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3349، 3447، 4626)، ترمذی (2423) اور نسائی (11095) نے سفیان ثوری کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا (پچھلی حدیث نمبر 3032 کو ملا کر)۔ اسی طرح احمد، بخاری (4625، 4740، 6526)، مسلم (2860)، ترمذی اور نسائی وغیرہم نے شعبہ عن مغیرہ بن نعمان کے طریق سے روایت کیا ہے، لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک (جو بخاری مسلم میں نہ ہو) شمار کرنا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3714 سے ماخوذ ہے۔