المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يَتَكَلَّمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْآدَمِيِّ فَخِذُهُ وَكَفُّهُ باب: قیامت کے دن انسان کے اعضاء میں سب سے پہلے ران اور ہتھیلی کلام کریں گے
حدیث نمبر: 3688
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب قالا: حدثنا محمد بن كَثير العَبْدي، حدثنا سفيان، عن سَلَمة بن كُهيل، عن مالك بن حُصَين بن عُقْبة الفَزَاري، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب؛ سُئِلَ عن قول الله ﷿: ﴿رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ﴾ [فصلت: 29]، قال: ابنُ آدمَ الذي قَتَل أخاه، وإبليسُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3647 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ﴾ ”اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ دونوں دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔“ [سورة فصلت: 29] کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”ان سے مراد آدم کا وہ بیٹا (قابیل) ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا، اور ابلیس ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر حسنٌ إن شاء الله، وقد سلف برقم (3254) من طريق مصعب بن المقدام عن سفيان الثوري. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى بن معاذ العنبري.
درجۂ حدیث: یہ خبر ان شاء اللہ "حسن" ہے، اور (3254) پر مصعب بن مقدام عن سفیان ثوری کے طریق سے گزر چکی ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو مثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ بن معاذ عنبری ہیں۔
درجۂ حدیث: یہ خبر ان شاء اللہ "حسن" ہے، اور (3254) پر مصعب بن مقدام عن سفیان ثوری کے طریق سے گزر چکی ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو مثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ بن معاذ عنبری ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3688 سے ماخوذ ہے۔