کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آیت ”اللہ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے“ کے نزول کا سبب
حدثنا أبو سعيد (3) أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أبو شعيب الحرَّاني، حدثنا أحمد بن عبد الملك بن واقد، حدثنا زهير، حدثنا قابوس بن أبي ظَبْيان، أنَّ أباه حدَّثه قال: قلتُ لابن عبَّاس: قولُ الله ﷿: ﴿مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ﴾ [الأحزاب: 4]، ما عَنَى بذلك؟ قال: قامَ نبيُّ الله ﷺ فَخَطَرَ خَطْرةً، فقال المنافقون الذين يُصلُّون معه: ألا تَرَونَ، له قَلبانِ: قلبٌ معهم وقلب معكم. فأَنزل الله ﷿: ﴿مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ﴾ (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3555 - قابوس بن أبي ظبيان ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3555 - قابوس بن أبي ظبيان ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ﴾ [سورة الأحزاب: 4] کے متعلق روایت ہے، قابوس بن ابی ظبیان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا کہ اس کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوئے تو آپ کے ذہن میں ایک خیال گزرا (یا آپ سے کوئی سہو ہوا)، اس پر ان منافقین نے جو آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، کہا: ”دیکھو! ان کے دو دل ہیں؛ ایک دل ان (مسلمانوں) کے ساتھ ہے اور ایک تمہارے ساتھ،“ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا محمد بن عمرو البزَّار (1) ببغداد، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن طلحة، عن عطاء، عن ابن عبَّاس: أنه كان يقرأُ هذه الآية: (النبيُّ أَوْلَى بالمُؤْمنينَ من أنفُسِهم وهو أَبٌ لهم وأزواجُه أُمَّهاتُهم) (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3556 - بل طلحة ساقط
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3556 - بل طلحة ساقط
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اس آیت کو (اس طرح) پڑھا کرتے تھے: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ ”نبی مومنوں پر خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور وہ ان کے والد ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الحسن محمد بن علي بن بَكْر العَدْل، حدثنا الحسين بن الفَضْل البَجَلي، حدثنا شَبَابةُ بن سوَّار، حدثني إسحاق بن يحيى بن طَلْحة، عن عمِّه موسى بن طَلْحة قال: بَيْنا عائشةُ بنتُ طلحة تقول لأمِّها أمِّ كُلثُوم بنت أبي بكر: أَبي خيرٌ من أبيكِ، فقالت عائشة أمُّ المؤمنين: ألا أَقضي بينكما، إنَّ أبا بكر دَخَلَ على النبي ﷺ فقال: "يا أبا بكرٍ، أنت عَتيقُ اللهِ من النار"، قالت: فمن يومِئذٍ سُمِّي عَتيقًا، ودَخَلَ طلحةُ على النبي ﷺ فقال: "أنت يا طلحةُ ممَّن قَضَى نَحْبَه" (3). صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3557 - بل إسحاق بن يحيى بن طلحة متروك قاله أحمد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3557 - بل إسحاق بن يحيى بن طلحة متروك قاله أحمد
حافظ طلحہ بابر
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) عائشہ بنت طلحہ اپنی والدہ ام کلثوم بنت ابی بکر سے کہہ رہی تھیں: ”میرے والد (طلحہ) تمہارے والد (ابوبکر) سے بہتر ہیں،“ تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے درمیان فیصلہ نہ کر دوں؟ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! تم آگ سے اللہ کے آزاد کردہ (عتیق اللہ) ہو،“ پس اسی دن سے ان کا نام عتیق پڑ گیا، ”اور جب طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے طلحہ! تم ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے اپنی نذر (جان کی قربانی کا عہد) پوری کر دی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔